حکومت کے غیر اسلامی قرضے اسلامی بینکاری میں رکاوٹ ہیں، گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس میزان بینک

image

میزان بینک کی جانب سے کراچی میں اسلامی بینکنگ کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی میڈیا بریفنگ میں نئے اور اہم اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بینکاری کا مستقبل صرف اسلامی ہے۔

بریفنگ سے میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس احمد علی صدیقی، ہیڈ شریعہ آڈٹ فرحان الحق عثمانی اور گروپ ہیڈ جنرل سروسز اینڈ کسٹمر سپورٹ محمد رضا نے خطاب کیا اور میڈیا کو اسلامی بینکاری کی کارکردگی، ریگولیشن اور مستقبل کے ترقیاتی امکانات سے آگاہ کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بینکنگ کے مجموعی شعبے میں اسلامی بینکنگ کا شیئر 24 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور اس سال اسلامی بینکنگ کے اثاثوں کی مالیت میں 4,500 ارب روپے کا نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کی بڑھتی ہوئی ترجیح، ریگولیٹری پیش رفت، برانچ نیٹ ورک میں توسیع، سکوک سرگرمیوں میں اضافہ اور سود سے پاک بینکاری نظام کی جانب پیش رفت اس ترقی کے اہم محرکات ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت اسلامی بینکاری کے اثاثے دسمبر 2026 تک 18 سے 19 ہزار ارب روپے جبکہ ڈپازٹس 1,000 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ 14.5 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران حکام نے نشاندہی کی کہ اسلامی بینکاری کی راہ میں حکومت کے غیر اسلامی قرضے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹریژری بلز اور روایتی قرضوں پر انحصار کم کرے اور اس کے بجائے سکوک (بانڈز) کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قرضے حاصل کرے تاکہ اسلامی بینکاری کے نظام کو مزید فروغ مل سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US