تاجر ٹیکس آسان اسکیم میں نہ آئے تو کاروبار سیل کردیے جائیں گے، وزیر خزانہ

image

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے او آئی سی سی آئی (OICCI) میں نیوز کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام کا سفر جاری ہے، مالی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے اور رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 0.1 فیصد رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے اپنے دو ماہ کے ریونیو اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

ساؤرن ریٹنگ کے حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فی الوقت 'بی' (B) ساؤرن ریٹنگ پر ہے جبکہ ملک کی تاریخ کی بہترین ریٹنگ 'بی پلس' (B+) رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال ہی بی پلس ریٹنگ دوبارہ حاصل کر لی جائے گی، جس کے بعد اگلا ہدف 'اے پلس' (A+) ساؤرن ریٹنگ حاصل کرنا ہے اور ملک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

سرمایہ کاری اور نجکاری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی آمد سے ہی بیرونی سرمایہ کار آتے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے ادارہ خریدا ہے، جبکہ ڈسکوز (DISCOs) کی نجکاری میں ترکیہ کی تین کمپنیاں مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شامل ہوئی ہیں۔

تجارت اور ٹیکس اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے وزير خزانہ نے بتایا کہ ریٹیلرز کے لیے "ٹیکس آسان اسکیم" پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ اگر تاجر اس اسکیم میں شامل نہیں ہوں گے تو دیگر آپشنز دیکھے جائیں گے اور اسکیم کے نفاذ کے لیے انفورسمنٹ کی طرف بھی جایا جاسکتا ہے۔ مزید برآں، کابینہ نے قانون منظور کیا ہے کہ اگر تاجر ٹیکس آسان اسکیم میں شامل نہیں ہوتے تو ان کا کاروبار سیل کر دیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سخت سوالات پر وزیر خزانہ نے بعض باتوں کے واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنے یا برقرار رکھنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ریونیو کے نقصان سے متعلق سوالات کا انہوں نے براہ راست جواب نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہونے دی گئی اور تمام بین الاقوامی وعدے پورے کیے جائیں گے۔

صنعتوں اور ایکسپورٹس سے متعلق وزیر اعظم کی ناراضی کے سوال پر انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم نے اوورآل انڈسٹری کا ذکر کیا تھا کہ جنہیں مسلسل سپورٹ دی گئی وہ ایکسپورٹ نہ بڑھا سکے، اس لیے اب صنعتوں کو ہر صورت اپنی ایکسپورٹ بڑھانا ہوگی۔ گیس کے ریٹس میں ممکنہ اضافے کے صحافی کے سوال کو بھی وزیر خزانہ نے نظر انداز کردیا اور اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US