جنوبی کیلیفورنیا کے مشہور علاقے بیورلی ہلز کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے جہاں ایک فوڈ انفلوئنسر کو کیک کاٹنے پر اضافی فیس ادا کرنا پڑی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون فوڈ انفلوئنسر اپنے دوستوں کے ساتھ ہوٹل کے روف ٹاپ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئی تھیں جہاں دورانِ ملاقات انہوں نے ایک کیک کاٹا۔ بعد ازاں انہیں بل میں بتایا گیا کہ کیک کاٹنے کے لیے الگ سے چارجز شامل کیے گئے ہیں۔
انفلوئنسر کے مطابق یہ رقم 110 ڈالر تھی جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 30 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی شخص 10 ڈالر کے حساب سے یہ فیس لی گئی تاہم اس بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا جس پر وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے بل کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہوگیا۔
اس واقعے پر آن لائن صارفین کی رائے منقسم نظر آئی، کچھ افراد نے ہوٹل کے اس اقدام کو غیر ضروری اور مہنگا قرار دیا جبکہ بعض نے اسے ایک غیر معمولی پالیسی سمجھتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا۔
تنازع بڑھنے کے بعد ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے بھی وضاحت سامنے آئی۔ انتظامیہ نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ مہمانوں کو کیک کاٹنے کی فیس کے بارے میں درست طریقے سے آگاہ نہیں کیا گیا، اور یہ ان کے معمول کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔ ان کے مطابق مہمانوں کو پہلے ہی اس بارے میں بتانا چاہیے تھا۔
ہوٹل نے نہ صرف اس غلط فہمی پر معذرت کی بلکہ انفلوئنسر کو وصول کی گئی فیس واپس کرنے کی پیشکش بھی کی۔ ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا گیا کہ آئندہ کیک کاٹنے کی فیس 10 ڈالر سے کم کرکے 5 ڈالر فی شخص کر دی جائے گی۔