بھارت میں ایک کسان کو اپنے خاندان سے رقم چھپا کر رکھنے کا ایسا نقصان اٹھانا پڑا کہ جمع پونجی ہی ہاتھ سے نکل گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان کے ایک گاؤں میں کسان نے تقریباً ایک سال قبل اپنی زمین کا ایک حصہ 5 لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر رقم گھر میں رکھی تو اس کے بیٹے اسے خرچ کردیں گے، اسی لیے اس نے نوٹ پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالے اور کھیت میں گڑھا کھود کر دفن کردیے۔
رقم محفوظ سمجھنے کے بعد کسان اس جگہ کو بھول گیا۔ کچھ ماہ بعد جب گھر میں تعمیراتی کام کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑی تو اسے اپنی چھپائی ہوئی رقم یاد آئی، لیکن کھیت میں تلاش کے باوجود رقم کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس نے گھر والوں کو واقعے کے بارے میں بتایا تو انہیں بھی یقین نہیں آیا کہ اتنی بڑی رقم کھیت میں دفن کرکے وہ اس کی جگہ بھول گیا ہے۔ تاہم اہلخانہ نے مل کر کئی مرتبہ تلاش کی، مگر پیسے نہیں ملے۔
تقریباً ایک سال بعد مون سون کے دوران بارش نے کسان کی چھپی ہوئی رقم کا راز کھول دیا۔ پانی کے ساتھ پلاسٹک کا وہ تھیلا کھیت میں تیرتا ہوا نظر آیا۔ کسان نے اہلخانہ کے ساتھ تھیلا کھولا تو اندر موجود نوٹ دیکھ کر سب حیران رہ گئے، کیونکہ زیادہ تر رقم کو دیمک بری طرح چاٹ چکی تھی۔
تھیلے میں زیادہ تعداد 500 روپے کے نوٹوں کی تھی، جو نمی اور دیمک کے باعث شدید متاثر ہوچکے تھے۔ خاندان نے امید کے ساتھ یہ رقم بینک لے جانے کی کوشش کی تاکہ شاید کچھ نوٹ تبدیل ہوسکیں، تاہم بینک حکام نے بھی کسی قسم کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔ یوں خاندان سے رقم چھپانے کے لیے کھیت میں دفن کی گئی 5 لاکھ روپے کی رقم تقریباً برباد ہوگئی۔