پاکستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر مقامی آئل ریفائنریز نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو مشترکہ خط ارسال کر دیا۔ ریفائنریز نے خبردار کیا ہے کہ سستا ایرانی ڈیزل اور پٹرول مقامی صنعت اور کاروبار کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس سے ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسی دوران ایران سے غیرقانونی تیل کی اسمگلنگ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پارکو، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ،نیشنل ریفائنری اوراٹک ریفائنری نے اوگرا کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت مقامی پیداوار کم کرنے کے بجائے سرحد پار غیرقانونی تیل کی آمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں مہنگے تیل کے باعث پاکستان کی معیشت دباؤ میں ہے ایسے میں ایران سے سستا تیل کرنٹ اکاؤنٹ پر بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے حکومت کو اس کی قانونی درآمد کے امکانات پر غور کرنا چاہیے۔