آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف ٹیکس تجاویز زیر غور ہیں، جن کے باعث سولر پینلز، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مختلف شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد ٹیکس کو بھی 8 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں الیکٹرک کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، ٹرکوں اور بسوں سمیت مختلف ای-وہیکلز کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ الیکٹرک پک اپ، ٹریکٹر اور ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
دوسری جانب ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت سے 327 ارب روپے کے واجب الادا ری فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعتکاروں نے بجٹ میں ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کے نرخ کم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض مجوزہ اقدامات کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو 100 ارب روپے تک کا ریلیف مل سکتا ہے، تاہم تاحال برآمدی شعبے کے لیے کسی بڑے ریلیف پیکیج کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔