سوشل میڈیا پر ہونے والی ایک دوستی اس وقت غیر معمولی رخ اختیار کر گئی جب آزاد کشمیر کے ایک نوجوان نے اپنی پسندیدہ خاتون سے ملاقات کی خواہش میں لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سرحد پار کرتے ہی وہ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کی نظروں میں آ گیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعہ اڑی سیکٹر کے سلیکوٹ علاقے میں پیش آیا، جہاں تعینات اہلکاروں نے صبح کے وقت ایک شخص کو سرحدی حد عبور کرتے ہوئے دیکھا۔ نوجوان کو مقبوضہ کشمیر کی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا اور ابتدائی پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران نوجوان نے اپنا نام ذیشان احمد میر بتایا، جو مظفرآباد کے نواحی علاقے پائن کڈی کا رہائشی ہے۔ حکام کے مطابق اس کے قبضے سے ملنے والی پاکستانی شناختی دستاویزات سے بھی اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔
حکام اس وقت حیران رہ گئے جب نوجوان نے سرحد عبور کرنے کی وجہ بیان کی۔ اس کے مطابق اڑی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ارم بانو سے اس کی جان پہچان سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی۔ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان رابطہ بڑھتا گیا اور اسی تعلق نے اسے یہ خطرناک قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔
ذیشان کا کہنا ہے کہ وہ خاتون سے ملاقات کے ارادے سے لائن آف کنٹرول پار کر کے اس طرف آیا تھا۔ دوسری جانب سیکیورٹی ادارے اس دعوے کی مکمل جانچ کر رہے ہیں اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان اور خاتون دونوں سے مختلف ادارے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں ان کے موبائل فونز، رابطوں اور آن لائن پیغامات کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ دونوں کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا تھی اور آیا واقعہ صرف ذاتی بنیادوں پر پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی اور پہلو بھی موجود ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بننے والے تعلقات بعض اوقات لوگوں کو ایسے فیصلوں تک لے جاتے ہیں جن کے نتائج غیر متوقع اور سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔