دونوں پاؤں کٹ گئے تھے، لوگ سمجھتے تھے زندگی رک گئی ہے، مگر میں نے ہار نہیں مانی

image

"کچھ سال پہلے لاہور ملتان روٹ پر ایک حادثے نے میری زندگی بدل دی۔ اس حادثے میں میرے دونوں پاؤں ضائع ہو گئے۔ شروع میں مجھے لگا کہ شاید اب میں دوسروں کا محتاج ہو جاؤں گا لیکن میں نے خود سے وعدہ کیا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں میں اپنی زندگی اپنے دم پر گزاروں گا۔ آج میں فوڈ پانڈا کے ساتھ کام کر رہا ہوں، اپنا روزگار خود کما رہا ہوں اور کسی پر بوجھ نہیں ہوں۔ راستے میں مشکلات اب بھی آتی ہیں، لیکن میں نے رکنا نہیں سیکھا۔"

یہ الفاظ ہیں حمزہ علی کے جن کی زندگی کا سفر ہزاروں لوگوں کے لیے حوصلے اور عزم کی مثال بن گیا ہے۔ جسمانی معذوری کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے مایوسی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور محنت کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔

حمزہ علی چند برس قبل ایک خوفناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ان کے دونوں پاؤں کٹ گئے۔ ایک عام انسان کے لیے یہ صدمہ زندگی کو مکمل طور پر بدل سکتا تھا لیکن حمزہ نے حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے نئی حقیقت کو قبول کیا اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد سب سے بڑا چیلنج خود مختار زندگی گزارنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر روزگار کا کوئی ذریعہ نہ ملا تو انہیں دوسروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اسی تلاش کے دوران انہیں فوڈ پانڈا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ابتدا میں انہیں کمپنی کو یہ یقین دلانا پڑا کہ وہ اپنی جسمانی معذوری کے باوجود ذمہ داریاں نبھانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

آج حمزہ بطور فوڈ پانڈا رائیڈر کام کر رہے ہیں۔ وہ روزانہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ کامیابی کے راستے میں جسمانی کمزوری سے زیادہ اہم انسان کا حوصلہ اور ارادہ ہوتا ہے۔

حمزہ کا کہنا ہے کہ زندگی اب بھی آسان نہیں۔ انہیں روزمرہ کے کاموں میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات اجنبی لوگ ان کی زیادہ مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں جبکہ قریبی رشتوں سے ہمیشہ ویسی حمایت نہیں ملتی جس کی توقع ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے خود کو مضبوط رکھا اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

ان کی کہانی منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھی بھرپور انداز میں ان کی تعریف کی۔ کئی افراد نے انہیں ہمت اور خودداری کی علامت قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ حمزہ علی حقیقی ہیرو ہیں اور ان کی جدوجہد قابلِ احترام ہے۔ جبکہ دوسرے صارفین کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ معاشرے کو خصوصی افراد کے لیے زیادہ ہمدرد، معاون اور حساس ہونے کی ضرورت ہے۔

حمزہ علی کی داستان صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی عزم، محنت اور خود اعتمادی انسان کو نئی منزلوں تک پہنچا سکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US