پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے باعث سرمایہ کاری کے فیصلوں میں تاخیر اور نظرثانی کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پاکستان) کے جاری کردہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے یا تو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔سروے کے مطابق مجموعی بزنس کانفیڈنس انڈیکس 9 فیصد پوائنٹس کی کمی کے بعد مثبت 13 فیصد پر آ گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے سرمایہ کاری کے اعتماد، سپلائی چینز اور اقتصادی ترقی کے امکانات کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔
سروے کے مطابق خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ 20 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 7 فیصد پوائنٹس کمی دیکھی گئی۔ تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نئی سرمایہ کاری کے رجحان میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کاروباری ادارے اس وقت خطرات میں کمی اور آپریشنل استحکام پر توجہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چھ ماہ کے دوران 34 فیصد کاروباری اداروں نے منفی معاشی صورتحال کے خدشات ظاہر کیے ہیں جبکہ سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتیں بڑی تشویش کے عوامل ہیں۔
میٹروپولیٹن شہروں میں بھی کاروباری اعتماد 12 فیصد پوائنٹس کمی کے بعد 11 فیصد تک گر گیا ہے۔ سروے کے مطابق کاروباری طبقہ سمجھتا ہے کہ موجودہ بحران کے اثرات آئندہ چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے کاروباری اعتماد کی بحالی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، لاگت میں ریلیف اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔