لینڈ سلائیڈ کے دوران خود کو خطرے میں ڈال کر دیگر افراد کی زندگی بچانے والا شخص

image

"مجھے معلوم تھا کہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور کسی بھی لمحے پہاڑی سرک سکتی ہے، لیکن میرے پاس رکنے کا وقت نہیں تھا۔ میری ذمہ داری تھی کہ گاؤں کے ہر فرد کو خبردار کروں اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچاؤں۔ راستے میں میں سیلابی پانی میں بہہ بھی گیا، زخمی بھی ہوا، مگر میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی کہ کوئی شخص پیچھے نہ رہ جائے۔ جب تک آخری خاندان بھی محفوظ جگہ منتقل نہیں ہو گیا، میں نے آرام نہیں کیا۔"

کیچڑ میں ڈوبا ہوا ایک شخص، ہاتھ میں ٹارچ اور سر پر چھتری، اندھیری رات میں تنہا گاؤں کی گلیوں میں دوڑ رہا تھا۔ پہلی نظر میں شاید کوئی اسے عام دیہاتی سمجھے، مگر حقیقت میں وہ ایک ایسا سرکاری افسر تھا جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر درجنوں خاندانوں کی زندگیاں بچانے نکلا تھا۔

چین کے صوبہ یوننان کے ایک پہاڑی گاؤں میں موسلادھار بارش نے تباہی کے سائے منڈلانے شروع کیے تو زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ اسی دوران گاؤں کے ڈائریکٹر تیان ریولنگ مسلسل موسم اور دریا کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ رات گہری ہوتی گئی اور پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنے لگا۔ تجربے نے انہیں خبردار کر دیا کہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے والا ہے۔

صبح ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے انہوں نے فوری اقدام کا فیصلہ کیا۔ وہ بارش، اندھیرے اور خطرناک راستوں کی پروا کیے بغیر گھر گھر پہنچے، دروازے کھٹکھٹائے، لوگوں کو جگایا اور انہیں محفوظ مقام کی طرف روانہ کیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں میں قید مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اکیلے گلیوں میں چلتے ہوئے بلند آواز میں رہائشیوں کو خبردار کر رہے تھے کہ فوراً گھروں سے نکل جائیں۔

اس مشن کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب تیز بہاؤ نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خوش قسمتی سے قریب موجود ایک مضبوط درخت ان کے لیے زندگی کی ڈھال بن گیا۔ کچھ دیر بعد جب پانی کی شدت کم ہوئی تو وہ دوبارہ کھڑے ہوئے اور ادھورا کام مکمل کرنے نکل پڑے۔

گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد گاؤں کے تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ انخلا مکمل ہونے کے فوراً بعد وہ خدشہ حقیقت میں بدل گیا جس سے تیان ریولنگ ڈر رہے تھے۔ پہاڑ کا ایک بہت بڑا حصہ اچانک منہدم ہو گیا اور مٹی، پتھروں اور چٹانوں نے آدھے گاؤں کو اپنی زد میں لے لیا۔

اگر چند گھنٹے پہلے یہ فیصلہ نہ کیا جاتا تو جانی نقصان انتہائی خوفناک ہو سکتا تھا۔ اسی لیے جب کیچڑ سے بھرے کپڑوں اور زخمی حالت میں ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر سامنے آئی تو وہ لاکھوں لوگوں کے لیے بہادری، فرض شناسی اور انسانی ہمدردی کی علامت بن گئی۔

حادثے کے بعد تیان ریولنگ نے متاثرہ افراد کے ساتھ مل کر ملبہ ہٹانے اور بحالی کے کام میں بھی حصہ لیا۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس محنت کے بعد گاؤں والوں نے اپنے محافظ کے لیے جذباتی الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص نے ہماری زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان کو داؤ پر لگا دیا، اب ہم اس کے ساتھ مل کر اپنے گھروں اور اپنی بستی کو دوبارہ آباد کریں گے۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ حقیقی ہیرو وہ نہیں ہوتے جو اسکرینوں پر نظر آتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو خطرے کے وقت دوسروں کی خاطر اپنی جان کی پروا نہیں کرتے، اور تیان ریولنگ کی کہانی اسی حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US