طوطے کی غنڈہ گردی، گاڑیوں پر حملے کرکے شہریوں کا لاکھوں کا نقصان کردیا

image

اسکاٹ لینڈ کے ایک پُرسکون رہائشی علاقے میں ایک چھوٹا سا طوطا کئی ماہ سے مقامی لوگوں کے لیے غیر متوقع مسئلہ بنا ہوا ہے۔ بظاہر بے ضرر دکھائی دینے والا یہ پرندہ گاڑیوں کو نشانہ بناتا ہے اور ان کے ربڑ سے بنے مختلف حصوں کو اپنی چونچ سے نقصان پہنچاتا ہے، جس کے باعث متعدد گاڑی مالکان کو مرمت پر بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ طوطا رواں سال کے آغاز سے محلے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی خاص دلچسپی گاڑیوں کے وائپرز اور کھڑکیوں کے کناروں پر لگے ربڑ کے حصوں میں نظر آتی ہے، جنہیں وہ بار بار کاٹ دیتا ہے۔ مسلسل نقصان کے بعد بعض افراد نے اپنی گاڑیوں کو کھلے میں چھوڑنے کے بجائے کور سے ڈھانپنا شروع کردیا ہے تاکہ انہیں مزید خرابی سے بچایا جاسکے۔

ایک مقامی خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محلے میں اب اس طوطے کا ذکر بھی پریشانی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بظاہر ننھا سا پرندہ کئی گاڑی مالکان کے لیے اضافی اخراجات اور مشکلات کا سبب بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پرندہ کبھی کبھار کئی دن یا ہفتوں تک دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے مواقع پر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ کہیں اور چلا گیا ہے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس کی واپسی کی خبریں دوبارہ سامنے آجاتی ہیں اور متاثرہ افراد کی تشویش لوٹ آتی ہے۔

وائلڈ لائف ماہرین ابھی تک اس رویے کی حتمی وجہ نہیں جان سکے، تاہم ان کے مطابق چند امکانات موجود ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ طوطا گاڑیوں کے شیشوں میں اپنا عکس دیکھ کر اسے کسی دوسرے پرندے کی موجودگی سمجھتا ہو اور ردعمل میں گاڑی پر حملہ کرتا ہو۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ربڑ میں موجود بعض اجزا یا خوشبو اسے اپنی طرف متوجہ کرتی ہو۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض ذہین پرندے مصروفیت یا تجسس کے باعث غیر معمولی حرکات اختیار کر لیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نسل کے طوطے عام طور پر اسکاٹ لینڈ کے مقامی پرندوں میں شامل نہیں ہیں۔ اسی لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی فرد کا پالتو پرندہ تھا جو کسی موقع پر پنجرے سے نکل گیا یا پھر اسے آزاد چھوڑ دیا گیا۔ فی الحال اس کی موجودگی نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے بلکہ اس کے باعث گاڑی مالکان کو بھی مسلسل احتیاط برتنا پڑ رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US