ایک نجی کمپنی نے دنیا کے پہلے "تیرتے شہر" کے تصور کو حقیقت بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو سمندر میں ایک مستقل موبائل شہر کی شکل اختیار کرے گا اور اس میں 80 ہزار افراد کے قیام کی گنجائش ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق فریڈم شپ نامی یہ منصوبہ جوہری توانائی سے چلنے والے ایک دیوہیکل بحری جہاز پر مشتمل ہوگا جس کی لاگت تقریباً 16 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس میں رہائشی علاقے، اسکول، کالج، بینک، دکانیں، اسپورٹس اسٹیڈیم، واٹر پارک، میوزیم، کنونشن سینٹر اور دیگر جدید سہولیات موجود ہوں گی۔
منصوبے کے مطابق یہ تیرتا ہوا شہر 2 سے 3 سال میں پوری دنیا کا چکر مکمل کرے گا جبکہ اس کی تعمیر چار سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم فی الحال یہ ایک تصوراتی منصوبہ ہے اور اس پر عملی کام کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔