جدید دور میں جہاں الیکٹرانک آلات تیزی سے بدل رہے ہیں وہیں ٹی وی ریموٹ کنٹرول کی ساخت گزشتہ 20 سالوں میں تقریباً جوں کی توں برقرار ہے، جس میں معمولی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی بڑی جدت دیکھنے میں نہیں آئی۔
پرانے اور موجودہ ریموٹ کنٹرولز کا موازنہ کیا جائے تو دونوں کی بنیادی ساخت تقریباً ایک جیسی نظر آتی ہے تاہم موجودہ ریموٹ میں متعدد ایسے اضافی بٹن بھی شامل ہوتے ہیں جن کا استعمال کم ہی کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کمپنیوں کی جانب سے ریموٹ میں اضافی بٹن شامل کرنے کی ایک بڑی وجہ صارفین کا نفسیاتی رجحان ہے جس کے تحت زیادہ بٹن والے ڈیوائسز کو بہتر اور مہنگا سمجھا جاتا ہے،جبکہ کم بٹن والا ریموٹ نسبتاً سستا محسوس ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسی تصور کے تحت ریموٹ کنٹرولز میں مختلف غیر ضروری یا کم استعمال ہونے والے بٹن شامل کیے گئے تاکہ ڈیوائس زیادہ جدید اور فیچر سے بھرپور نظر آئے۔
مزید یہ کہ ریموٹ کی ڈیزائننگ اور پروڈکشن لاگت کو برقرار رکھنے کے لیے کمپنیوں کے لیے مکمل نیا سانچہ اور سرکٹ بورڈ تیار کرنا مہنگا اور وقت طلب عمل ہوتا ہے اس لیے زیادہ تر صورتوں میں پہلے سے موجود ڈیزائن کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم وجہ ریموٹ کنٹرول کا استعمالی انداز ہے کیونکہ زیادہ تر صارفین اسے اندھیرے میں استعمال کرتے ہیں اور مخصوص بٹنوں کی عادت ڈال لیتے ہیں جس کے باعث اضافی بٹنوں کی عملی اہمیت مزید کم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجوہات ہیں کہ آج کا ریموٹ کنٹرول ایک سادہ ڈیوائس کے بجائے تقریباً ایک منی کنٹرول پینل کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں درجنوں بٹن موجود ہوتے ہیں مگر استعمال چند ہی کا کیا جاتا ہے۔