روایتی تصور کے برعکس بکریوں کو اب محض سادہ یا عقل سے عاری جانور نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ایک نئی سائنسی تحقیق میں ان کی غیر معمولی ذہانت سامنے آئی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی زیورخ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق بکریاں انسانی آواز کو نہ صرف پہچانتی ہیں بلکہ اس کی سمت میں جا کر مطلوبہ چیز کو تلاش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں بالکل چھوٹے بچوں کی طرح۔
محققین کے مطابق بکریوں میں یہ صلاحیت بعض ایسے جانوروں سے بھی زیادہ ہے جن میں چیمنزی بھی شامل ہیں جبکہ کتے اس حوالے سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت پہلے سے دیکھی جا چکی ہے۔
تحقیق کے دوران 29 بکریوں پر تجربات کیے گئے جن میں دو بالٹیاں مختلف مقامات پر رکھی گئیں۔ ایک بالٹی میں کھانا واضح طور پر موجود تھا جبکہ محققین ایک اسکرین کے پیچھے سے آواز دے رہے تھے۔
نتائج کے مطابق بکریوں نے تقریباً 60 فیصد مواقع پر آواز کے تعاقب میں درست سمت میں جا کر کھانا تلاش کیا جبکہ جب محققین خاموش رہے تو کامیابی کی شرح 47 فیصد رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بغیر کسی خصوصی تربیت کے بھی بکریاں انسانی آواز کو سمجھ کر اس کا تعاقب کر سکتی ہیں جو ان کی ذہنی صلاحیتوں اور انسانوں کے ساتھ ہم آہنگی کی واضح دلیل ہے۔
اس سے قبل بھی مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ بکریاں انسانی ہاتھ کے اشارے سمجھنے، آواز کے لہجے پر ردعمل دینے اور مثبت انسانی چہروں کو ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے رائل سوسائٹی اوپن سائنس میں شائع کی گئی ہے جس نے جانوروں کی ذہانت سے متعلق پرانے تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔