بھارت کے ایک محنتی نوجوان راہول کی کہانی سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل جیت رہی ہے۔ جسمانی معذوری کے باوجود راہول نے ہمت ہارنے کے بجائے زندگی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ثابت کیا کہ مضبوط ارادوں کے سامنے مشکلات زیادہ دیر نہیں ٹھہرتیں۔
راہول نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، لیکن گھریلو حالات نے اس کا تعلیمی سفر روک دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بہت سے لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، مگر راہول کے والدین نے اسے کبھی احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے بیٹے کا حوصلہ بڑھایا اور اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے راہول نے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود مختار بننے کا راستہ چنا۔ اس نے اپنی روزمرہ ضروریات اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی پان کی دکان کھولی۔ محدود جسمانی صلاحیتوں کے باوجود وہ روزانہ محنت کرتا ہے اور عزتِ نفس کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہا ہے۔
اس کہانی کا سب سے جذباتی پہلو راہول کے والد کی محبت ہے۔ ہر روز والد اپنے بیٹے کو دکان تک چھوڑنے آتے ہیں اور شام کو واپس گھر لے جاتے ہیں۔ یہ معمول برسوں سے جاری ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک باپ کی محبت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ قربانی، ذمہ داری اور خاموش ساتھ میں بھی نظر آتی ہے۔
راہول کا کہنا ہے کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے، اس لیے اسے دوسروں کے سہارے پر نہیں بلکہ اپنے حوصلے اور محنت کے بل بوتے پر جینا چاہیے۔ اس کی جدوجہد اور اس کے والد کی بے لوث محبت آج ہزاروں لوگوں کے لیے امید، حوصلے اور خودداری کی ایک خوبصورت مثال بن چکی ہے۔