10 سال تک گٹر کی تاریکی میں گم رہنے والی انگوٹھی، آخرکار اپنی مالک تک پہنچ گئی

image

بعض اوقات برسوں پہلے کھو جانے والی چیزیں اس وقت واپس ملتی ہیں جب ان کی امید تقریباً ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ امریکا کی ریاست مشی گن میں بھی ایک ایسا ہی حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون کی منگنی کی انگوٹھی پورے دس سال بعد دوبارہ اس کے ہاتھوں میں آ گئی۔

یہ انگوٹھی ایک شاپنگ پلازہ کی سیوریج لائن میں اس وقت ملی جب پلمبرز مرمت کا کام کر رہے تھے۔ کام کے دوران ایک پائپ کے اندر چمکتی ہوئی چیز نے کارکنوں کی توجہ حاصل کی۔ قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک قیمتی انگوٹھی ہے جو برسوں سے وہاں پھنسی ہوئی تھی۔

پلمبنگ کمپنی کے مالک گریگ جانسن کے مطابق انگوٹھی ملنے کے بعد ان کی ٹیم نے اسے محفوظ کر لیا، مگر اصل سوال یہ تھا کہ اس کا مالک کون ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور انگوٹھی کی تصویر اور تفصیلات کے ساتھ ایک پیغام شیئر کیا۔

یہ پوسٹ ایک ایسی خاتون تک پہنچی جسے برسوں پرانا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اس نے کمپنی کو بتایا کہ تقریباً ایک دہائی پہلے ایک خاتون کی انگوٹھی ٹوائلٹ میں گر گئی تھی۔ اس وقت اسے نکالنے کی بہت کوشش کی گئی، لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی اور سب نے یہی سمجھا کہ انگوٹھی ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہے۔

اس اطلاع کے بعد انگوٹھی کی مالک کیرول اورم تک پیغام پہنچایا گیا۔ جب وہ انگوٹھی کی شناخت کے لیے آئیں تو ابتدا میں اسے پہچاننا آسان نہیں تھا کیونکہ لمبے عرصے تک سیوریج لائن میں رہنے کے باعث اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ تاہم صفائی اور پالش کے بعد وہ دوبارہ اپنی اصل چمک کے ساتھ سامنے آ گئی۔

کمپنی کے جنرل منیجر جیسن میٹزنک کے مطابق کیرول اورم نے انگوٹھی کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔ یہ وہی یادگار زیور تھا جو انہیں اپنی شادی کے موقع پر 1965 میں ملا تھا۔ برسوں بعد جب انہوں نے اسے دوبارہ انگلی میں پہن لیا تو جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

پلمبنگ کمپنی کے عملے کا کہنا ہے کہ کسی کھوئی ہوئی یاد کو اس کے اصل مالک تک واپس پہنچانا ان کے لیے غیر معمولی خوشی کا باعث بنا۔ ایک معمولی مرمتی کام نے بالآخر ایک ایسی یاد کو زندہ کر دیا جس کے لوٹ آنے کی امید تقریباً ختم ہو چکی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US