جہلم کے ایک ریسٹورنٹ میں محمد ابرار اسکیٹنگ شوز پہن کر گاہکوں کی میزوں تک کھانا پہنچاتے ہیں۔ تیزی سے اسکیٹنگ کرتے ہوئے میز کے سامنے بریک لگانا ان کا منفرد انداز ہے، جس نے انہیں سوشل میڈیا پر بھی مقبول بنا دیا ہے۔
جہلم کی ایک مصروف سڑک سے ذرا ہٹ کر واقع ریسٹورنٹ میں محمد ابرار عام ویٹرز سے مختلف انداز میں کھانا سرو کرتے ہیں۔ وہ اسکیٹنگ شوز پہن کر میزوں تک پہنچتے، عین سامنے بریک لگاتے اور مسکراتے ہوئے گاہکوں کو کھانا پیش کرتے ہیں۔
محمد ابرار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ پہلے سڑک پر اسکیٹنگ کرتے تھے، بعد میں ریسٹورنٹ میں کام شروع کیا اور اسی مہارت کو کھانا سرو کرنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔
ان کے مطابق اسکیٹنگ کرتے ہوئے کھانا پیش کرنا آسان نہیں، اس کے لیے باقاعدہ مشق اور توازن برقرار رکھنے کی مہارت ضروری ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کام کے دوران وہ 8 سے 9 مرتبہ گر چکے ہیں جبکہ ان کے ہاتھ میں موجود کھانا بھی کئی مرتبہ ضائع ہوا۔
ابرار کے مطابق گاہکوں کا ردعمل ان کے لیے سب سے بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ بعض لوگ ان کے اچانک بریک لگانے پر گھبرا جاتے ہیں، جبکہ زیادہ تر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ابرار کی ویڈیوز بھی خاصی مقبول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ویڈیوز کو 450 ملین ویوز مل چکے ہیں، جبکہ انہیں سب سے زیادہ 5 ہزار روپے کی ٹپ بھی ملی۔ بعض لوگ خاص طور پر ان سے ملنے کے لیے ریسٹورنٹ آتے ہیں۔
ابرار کا کہنا ہے کہ ان کی 12 گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی ہے اور تھکن کے باعث انہیں درمیان میں وقفہ لینا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تنقید کے باوجود وہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں اپنا ریسٹورنٹ کھولیں جہاں تمام ویٹر اسکیٹنگ کرتے ہوئے کھانا سرو کریں۔ نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام ہے کہ جو بھی کام کریں، دل سے کریں اور محنت جاری رکھیں۔
گاہکوں نے بھی ابرار کے انداز کو منفرد قرار دیا۔ ایک گاہک نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز دیکھ چکے تھے اور انہیں سامنے دیکھ کر خوشی ہوئی، جبکہ ایک اور گاہک ابرار کو دیکھنے کے لیے سرگودھا سے تین گھنٹے سفر کرکے جہلم پہنچا۔
ریسٹورنٹ انتظامیہ کے مطابق ابرار ان کی ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور جی ٹی روڈ پر اس طرز کی سروس ایک منفرد تجربہ ہے۔