فیصل آباد میں درندگی کا ہولناک واقعہ، گزشتہ روز سے لاپتہ 8 سالہ بچے کی لاش بند مکان کے واش روم سے برآمد کرلی گئی۔ لواحقین نے بچے کو مبینہ طور پر بدفعلی کے بعد قتل کیے جانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
8 سالہ شکیل گزشتہ روز گھر سے بوتل لینے کے لیے نکلا تھا، تاہم وہ واپس نہ لوٹا۔ کافی دیر تک گھر واپس نہ پہنچنے پر گھر والوں نے اس کی تلاش شروع کی، لیکن معصوم شکیل کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
آج مقامی پولیس اور لواحقین کو دورانِ تلاش ایک رہائشی مکان کے واش روم سے بچے کی لاش ملی، جس کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔
مقتول بچے کے لواحقین کا کہنا ہے کہ شکیل کو اغوا کرنے کے بعد مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لواحقین نے حکام سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انہیں عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجوہات اور زیادتی کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوسکے گی، تاہم واقعے کی تمام زاویوں سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔