منتہا کیس کے مرکزی کردار ارسلان کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے شواہد منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان کا بیٹا واقعی قصوروار تھا تو انہیں اس کے واضح ثبوت فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر وہ انصاف کے لیے آواز بلند کرتی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مقتول بچی کی والدہ کے دکھ کو بھی محسوس کرتی ہیں اور ایک ماں ہونے کے ناطے اس سانحے پر افسردہ ہیں، تاہم ان کے بقول 25 سالہ بیٹے کے خلاف ماضی میں کبھی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
ارسلان کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو ایک سازش کے تحت اصل حقائق چھپا کر ملزم ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ دکان کے اندر پیش آیا تو دکان کے مالک، ان کے بیٹے اور دیگر ملازمین کو اس کی اطلاع کیوں نہ ہوئی اور کسی نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بیٹے کی غربت اور کمزور حیثیت کی وجہ سے تمام ذمہ داری اس پر ڈال دی گئی، جبکہ اصل حقائق اور ممکنہ دیگر کرداروں کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے کی میت کو آخری بار دیکھنے اور اس سے الوداعی ملاقات کا بھی مکمل موقع نہیں دیا گیا۔
ارسلان کی والدہ نے مطالبہ کیا کہ اگر ان کا بیٹا قصوروار تھا تو اس کے ناقابل تردید شواہد سامنے لائے جائیں تاکہ انہیں حقیقت کا علم ہو سکے اور اگر وہ بے گناہ تھا تو اس کے ساتھ انصاف کیا جائے۔