وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے چار روز بعد بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے دبے 11 سالہ دو بچوں سمیت مزید چار افراد کو زندہ نکال کر امید کی نئی کرن روشن کردی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے شدید زلزلے میں اب تک ایک ہزار 430 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 3 ہزار 360 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 69 ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے امدادی اہلکار مسلسل سرگرم ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ریسکیو آپریشن کے بعد ملبے سے زندہ نکالے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 33 ہو گئی ہے، تاہم ہزاروں لاپتا افراد کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مقامی فوج، ریسکیو ادارے اور سیکڑوں بین الاقوامی امدادی کارکن امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران یورپی یونین نے متاثرین کی فوری مدد کے لیے 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی ہنگامی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیسیف کے مطابق اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے تقریباً 18 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد درکار ہے، جن میں خوراک، پینے کا صاف پانی، طبی سہولیات اور عارضی رہائش سرفہرست ضروریات ہیں۔
ادھر پوپ لیو نے زلزلے سے ہونے والی وسیع تباہی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ علاقوں کی جلد بحالی کے لیے دعا کی ہے۔