اٹلی کی وکیل نے اسلام قبول کرکے ترکش نرس سے شادی کرلی، دلچسپ ویڈیو

image

"ہمیں اپنے خوبصورت شہر مدیات میں شادی کرنے کی بہت خوشی ہے۔ ہم دونوں اٹلی میں رہتے ہیں، جہاں ایک زبان سیکھنے کے کورس کے دوران ہماری ملاقات ہوئی۔ میں شعبہ صحت سے وابستہ ہوں جبکہ میری اہلیہ وکیل ہیں۔ ملاقات کے بعد ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہوئی، پھر ہم نے شادی کا فیصلہ کیا۔ ہماری ایک شادی اٹلی میں ہوئی اور دوبارہ تقریبات مدیات میں منعقد کی گئی مجھے اٹلی میں ان کی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اور اب میں نے اپنی اہلیہ اور ان کے خاندان کو اپنی ثقافت اور خوبصورت مدیات سے متعارف کرایا ہے۔"

"میری اہلیہ کے اہل خانہ اور دوست اٹلی سے شادی میں شریک ہونے آئے تھے۔ انہیں مدیات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہوگا، مگر یہاں پہنچ کر وہ سیاحوں کی بڑی تعداد دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں مدیات کی ثقافت، قدرتی حسن، پتھروں سے بنی عمارتیں اور تاریخی ورثہ بہت پسند آیا وہ صرف شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے، لیکن اب ان کی خواہش ہے کہ وہ دوبارہ یہاں چھٹیاں گزارنے آئیں۔ ہماری شادی نے دو ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ مدیات پہلے ہی ایسا شہر ہے جہاں مختلف ثقافتوں کے لوگ باہمی ہم آہنگی سے رہتے ہیں، اور مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اسی شہر سے ہے۔"

ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے ماردین کے تاریخی شہر مدیات میں ایک ترک نوجوان اور اطالوی خاتون کی شادی نے مقامی ثقافت، محبت اور دو مختلف دنیاؤں کے خوبصورت ملاپ کی دلکش تصویر پیش کردی۔

مدیات سے تعلق رکھنے والے تاج الدین اوزمن اٹلی میں ایک طبی ادارے میں نرس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی ملاقات اطالوی وکیل تمارا ویرونیکا شریبر سے ایک زبان سیکھنے کے کورس میں ہوئی تھی۔ ایک ہی کلاس میں ہونے والی ملاقات دوستی میں بدلی، دوستی محبت تک پہنچی اور پھر دونوں نے زندگی بھر کے ساتھی بننے کا فیصلہ کرلیا۔

شادی سے پہلے تمارا ویرونیکا شریبر نے اسلام قبول کیا، جس کے بعد جوڑے نے دولہے کے آبائی شہر مدیات میں مقامی روایات کے مطابق شادی کی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دلہن کی والدہ، بہن بھائی، دیگر رشتے دار اور دوست بھی اٹلی سے خصوصی طور پر شادی میں شرکت کے لیے مدیات پہنچے۔

تقریب میں ترک اور مدیات کی مقامی روایات نمایاں رہیں۔ ڈھول کی تھاپ پر دلہا اور دلہن نے مہمانوں کے سامنے اپنا پہلا رقص کیا، جس کے بعد شادی میں شریک افراد نے مدیات کے روایتی لوک رقص میں حصہ لیا۔

اطالوی مہمان بھی مقامی رنگ میں رنگ گئے اور روایتی ہالے رقص میں شامل ہو کر تقریب کی رونق بڑھا دی۔ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو ایک ہی دائرے میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے رقص کرتے دیکھنا تقریب کا سب سے دلکش منظر بن گیا۔

شادی کی تقریب میں کیک بھی کاٹا گیا جبکہ مقامی روایت کے مطابق تحائف پیش کرنے کی رسم بھی ادا کی گئی۔ محبت کی اس کہانی نے صرف دو افراد کو نہیں ملایا بلکہ اٹلی اور ترکیہ کی ثقافتوں کو بھی ایک یادگار موقع پر یکجا کردیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US