لاہور: اغوا کے بعد غیر ملکی خواتین کی مبینہ عصمت دری کرنے کے الزام میں 4 ملزمان گرفتار

image

لاہور میں مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین نے کینٹ کچہری میں ملزمان کے خلاف دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کروا دیے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے دونوں خواتین، اسٹیفنی ایڈانا ماؤ اور ایسٹرڈ رابنسن کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنے بیانات درج کروائے۔

خواتین کی درخواست پر تھانہ ڈیفنس سی میں اغوا برائے تاوان اور جنسی زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں اہم شخصیت کے قریبی رشتہ دار محمد رضا ڈار سمیت 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مرکزی ملزم رضا ڈار نے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات کے دوران خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور خود ہی ان کے ویزوں کا انتظام کیا تھا۔ جب خواتین 29 جون 2026 کو پاکستان پہنچیں تو رضا ڈار نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں اغوا کرلیا۔

متاثرہ خواتین نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے ملنے پاکستان آئی تھیں لیکن ملزمان نے انہیں اغوا کر کے کئی مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور رہائی کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ملزم رضا ڈار خود بھی مغوی بننے کا ڈرامہ کرتا رہا جبکہ ملزمان تاوان کی رقم نہ دینے پر انہیں تشدد، قتل اور اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

غیر ملکی خواتین کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان سے زبردستی رقم بھی چھینی، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام پانچوں ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ دوسری جانب پولیس نے مقدمہ درج کر کے مقدمہ میں نامزد 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جنہیں جمعہ کے روز عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق یہ سارا معاملہ سنگاپور میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے معاملے سے شروع ہوا تھا۔ مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے ڈالرز میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد منافع نہ ملنے پر لڑکیوں کو پاکستان بلوا کر اغوا کرلیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ان سے باقاعدہ تفتیش کا عمل شروع کردیا جائے گا اور اصل صورتحال واضح ہوگی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US