والدہ کو نہیں بچا سکا، ایک بیٹے کا دکھ ہزاروں مریضوں کے لیے زندگی کی امید بن گیا

image

بھارت کی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ڈاکٹر کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہی ہزاروں لوگوں کے لیے امید کی کرن بن گیا۔ ڈاکٹر رمن کشور نے اپنی والدہ کو صرف اس لیے کھو دیا کیونکہ وقت پر کوئی ڈاکٹر ان تک نہیں پہنچ سکا، لیکن اسی درد نے انہیں ایسا عزم دیا جس کے بعد آج وہ ہزاروں غریب مریضوں کا مفت علاج کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر رمن کشور جب ایم بی بی ایس کے پہلے سال کے طالب علم تھے تو ان کی والدہ اچانک شدید بیمار ہو گئیں۔ ان کے گاؤں کے قریب کوئی اسپتال موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر بروقت پہنچ سکا۔ وہ اپنی والدہ کو تکلیف میں دیکھتے رہے لیکن کچھ نہ کر سکے، اور آخرکار وہ چل بسیں۔

اس واقعے نے ڈاکٹر رمن کشور کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے اپنی والدہ کی موت کے بعد خود سے عہد کیا کہ آئندہ کسی شخص کو صرف اس وجہ سے اپنی جان نہ گنوانی پڑے کہ اسپتال یا ڈاکٹر اس سے بہت دور ہے۔

ڈاکٹر رمن کشور بعد ازاں اپنے گاؤں کے پہلے ڈاکٹر بنے، لیکن انہوں نے زیادہ آمدنی والی نجی پریکٹس شروع کرنے کے بجائے غریب اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کی خدمت کو اپنا مقصد بنا لیا۔

سال 2020 سے وہ ہر ہفتے کے اختتام پر بہار کے دور دراز دیہات کا سفر کرتے ہیں، جہاں صحت کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔ وہ وہاں مفت طبی کیمپ لگاتے ہیں اور ایسے لوگوں کا علاج کرتے ہیں جن کا عام حالات میں ڈاکٹر تک پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر رمن کشور اپنی تنخواہ کا 80 سے 90 فیصد حصہ مریضوں کے علاج پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کے طبی کیمپوں میں ای سی جی، شوگر ٹیسٹ اور دیگر ضروری طبی سہولیات مکمل طور پر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ وہ کبھی بھی مریضوں سے علاج کی فیس یا عطیات کا مطالبہ نہیں کرتے۔

ڈاکٹر رمن کشور کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی والدہ سے ایک وعدہ کیا تھا کہ کسی اور خاندان کو وہ درد نہ سہنا پڑے جو میں نے دیکھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب دیہات کے لوگ ان سے کہتے ہیں، "ڈاکٹر صاحب، آپ نے ہماری جان بچا لی"، تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی والدہ سے کیا گیا وعدہ نبھا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر رمن کشور اب تک تقریباً 40 ہزار مریضوں کا مفت علاج کر چکے ہیں۔ ایک ماں کو کھونے کا غم ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ضرور بنا، لیکن اسی ایک سانحے نے انہیں ہزاروں زندگیاں بچانے کا حوصلہ اور مقصد بھی عطا کر دیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US