برطانیہ کا نوعمر لڑکیوں کے ریپ اور جنسی استحصال کے مجرم شبیر احمد کو پاکستان واپس بھجوانے کے لیے اسلام آباد سے رابطہ

برطانوی شہر روچڈیل کے بدنامِ زمانہ گرومنگ گینگ (نوجوان لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے) کے ایک سرغنہ کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ اُن کے متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ اس شخص کو ملک سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔

برطانوی حکام روچڈیل کے بدنامِ زمانہ گرومنگ گینگ (نوعمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ) کے ایک سرغنہ کو پاکستان بھجوانے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

73 سالہ شبیر احمد، جنھیں اُن کے متاثرین ’ڈیڈی‘ کے نام سے جانتے تھے، کو رواں ہفتے جیل سے رہا کیا گیا۔

شبیر احمد کے پاس برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی مگر سنہ 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد مرتبہ ریپ اور جنسی جرائم میں ملنے والی سزا کے بعد اُن کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی تھی تاہم اس ہفتے ان کے متاثرین کو بتایا گیا کہ شبیر احمد کو پاکستان ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 55 برس پرانا ایک قانون ان کی ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

شبیر احمد کو برطانیہ سے نکالنے کے لیے قانون میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے وزیرِ داخلہ کو اس مقدمے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

جب اس معاملے میں پیشرفت سے متعلق برطانوی حکومت سے پوچھا گیا تو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ معاملہ اسلام آباد میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا اور ہم غیر ملکی مجرموں کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اس ملک میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا گذشتہ حکومتوں کے تجربے سے ظاہر ہے کہ اس ملک کی رضامندی لازمی ہوتی ہے جہاں متعلقہ شخص کو بھیجا جانا ہو اور یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا ’تاہم ہم اس وقت حکومت کے مختلف شعبوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ شبیر احمد کو ملک سے نکالنے کے لیے ’اپنے اختیار میں موجود ہر ممکن اقدام‘ کرے گا لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے جس کے اثرات اس مخصوص واقعے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

اس سے قبل وزرا نے کہا تھا کہ برطانوی حکومت بچوں کے ساتھ ریپ کے مرتکب مجرم کو پاکستان واپس بھیجنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ 73 سالہ شبیر احمد جیل سے رہا ہونے کے بعد اب 24 گھنٹے عملے کی نگرانی والی رہائش گاہ میں رہتے ہیں جہاں وہ جی پی ایس سے منسلک الیکٹرانک نگرانی کا ٹیگ پہنے ہوئے ہیں۔

ہوم آفس نے کہا ہے کہ اگر شبیر احمد نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو انھیں فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔

تصویر
Getty Images
متاثرہ لڑکیوں کو الکوحل اور منشیات فراہم کی جاتیں اور بعدازاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا

’بار بار ایسے وعدے کیے گئے جو پورے نہیں ہوئے‘

آن لائن شائع ہونے والی دستاویزات میں کہا گیا کہ امیگریشن ایکٹ 1971 کی شقوں کے تحت شبیر کو پاکستان واپس بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔

اس قانون کے مطابق چونکہ شبیر احمد سنہ 1973 سے پہلے برطانیہ پہنچے تھے اور بیدخلی پر غور کیے جانے سے قبل کم از کم پانچ سال برطانیہ میں رہے ہیں، اس لیے ان کی ملک بدری پر پابندی ہے۔

یہ خبر سامنے آنے کے بعد روچڈیل گینگ کے متاثرین میں سے ایک نے کہا کہ اب وہ ’اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ‘ محسوس کرتی ہیں۔

متاثرہ خاتون، جنھیں 12 سال کی عمر سے جنسی حملوں کا نشانہ بنانے کا آغاز کیا گیا تھا، نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ شبیر احمد روچڈیل، اولڈہم اور مڈلٹن میں اچھی طرح جانے جاتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ان علاقوں میں موجود نہ بھی ہوں، تب بھی وہ (شبیر) وہاں کے لوگوں سے رابطہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اختتام پر انھیں بتایا گیا تھا کہ سزا پوری ہونے کے بعد تمام مجرموں کو ملک بدر کر دیا جائے گا، لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔

اُن کے بقول ’ہمیں بار بار ایسے وعدے کیے گئے جو پورے نہیں ہوئے۔‘

’ایک پرتشدد غنڈہ‘

سنہ 2022 میں اینڈی برنہم، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سر کیئر سٹارمر کے بعد وزیر اعظم بن سکتے ہیں، نے کنزرویٹو حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گرومنگ گینگ کے ارکان کو بیدخل کرنے کے لیے ’اپنے اختیار میں موجود ہر ممکن اقدام‘ کرے۔

روچڈیل سے رُکن پارلیمان پال واغ نے ڈیلی ٹیلیگراف کو بتایا کہ ’روچڈیل کے لوگ چاہتے ہیں کہ انھیں ملک سے باہر نکالا جائے اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ پاکستان کی حکومت انھیں واپس لینے سے انکار کر رہی ہے۔‘

’اگر شہریت کے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے تو وزرا کو اس پر غور کرنا چاہیے۔‘

سنہ 2008 کے اوائل سے دو سال تک، شبیر احمد نے ایسے افراد کے گروہ کی قیادت کی جو روچڈیل میں 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کو الکوحل اور منشیات دیتے اور پھر جنسی استحصال کے لیے ایک دوسرے کے حوالے کرتے تھے۔

اِن لڑکیوں کو ٹیک اویز کے اوپر کمروں میں اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا اور ٹیکسیوں کے ذریعے مختلف فلیٹس تک لے جایا جاتا تھا جہاں پیسے دے کر اُن کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔

عدالت میں شبیر احمد کو ایک ’پرتشدد، منافق غنڈہ‘ قرار دیا گیا تھا۔

مقدمے کے دوران انھوں نے جج کو ’نسل پرست‘ کہا اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے یورپی عدالتِ انسانی حقوق سے رجوع کیا کہ انھیں منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں ملا۔

سنہ 2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ نے انھیں 19 سال قید کی سزا سنائی، وہ ان نو افراد میں شامل تھے جنھیں روچڈیل گرومنگ گینگ کے مقدمے میں پانچ لڑکیوں کے خلاف جرائم پر سزا ہوئی۔

مزید کارروائی میں مانچسٹر کراؤن کورٹ نے انھیں ایک لڑکی کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ریپ اور جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق شبیر احمد نے متاثرہ لڑکی کو اپنی ’ملکیت‘ کے طور پر استعمال کیا اور اسے باقاعدگی سے ریپ کا نشانہ بنایا۔

سنہ 2014 میں احمد نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی، تاہم اپیل کورٹ نے اُن کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔

تصویر
PA Media

بعد ازاں سنہ 2016 میں شبیر احمد نے انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری کے خلاف بھی قانون چیلنج کیا، جس میں انھوں نے اپنے خلاف مقدمات کو سازش قرار دیا، تاہم یہ کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ 2012 میں بچوں کے ساتھ جنسی جرائم میں اُن کی سزا دراصل مسلمانوں کو ’قربانی کا بکرا‘ بنانے کی ایک سازش تھی۔

یہ بات انھوں نے مانچسٹر کراؤن کورٹ میں قائم فرسٹ ٹئیر امیگریشن ٹربیونل کے سامنے پیشی کے دوران کہی، جہاں وہ برطانوی شہریت ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے تھے۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ’گیارہ سفید فام جیوررز‘ نے سزا سنائی اور کہا کہ ’آج کل ہر چیز کا الزام مسلمانوں پر ڈالنا فیشن بن گیا۔‘

اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ وہ تقریباً 50 برس سے برطانیہ میں رہ رہے ہیں، اُن کے چار بچے یہیں پیدا ہوئے اور اُن کے بینک اکاؤنٹ میں 83 ہزار پاؤنڈ موجود ہیں۔

’متعدد ناکامیاں‘

پولیس کے مطابق اس گروہ سے متاثر ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 50 تک ہو سکتی ہے اور ان میں سے کئی غریب اور مشکل حالات کا سامنا کرنے والی لڑکیاں تھیں۔

جج جیرالڈ کلیفٹن نے کہا تھا کہ متاثرین کے ساتھ ’ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ بے وقعت ہوں اور کسی احترام کے لائق نہ ہوں۔‘

گریٹر مانچسٹر پولیس نے اُس وقت کہا تھا کہ ان جرائم میں کوئی ’نسلی یا ثقافتی‘ عنصر نہیں تھا۔

بعد میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متعدد خدشات کے اظہار کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اور مقامی حکام کی جانب سے ’سنگین اور متعدد ناکامیاں‘ ہوئیں۔

شبیر احمد کا مقدمہ اسی نوعیت کی طویل قانونی لڑائی کے بعد دو دیگر گرومنگ گینگ ارکان، قاری عبدالروف اور عادل خان، کے مقدمات کے بعد سامنے آیا تھا۔

قاری عبدالرؤف اور عادل خان کی برطانوی شہریت 2022 میں ختم کر دی گئی تھی، یہ کارروائی ایک طویل قانونی جنگ کے بعد ممکن ہوئی تھی۔ دونوں نے یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل آٹھ،یعنی نجی اور خاندانی زندگی کے حق، کا سہارا لے کر ملک بدری سے بچنے کی کوشش کی تھی۔

ہوم آفس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان دونوں کو برطانیہ سے بیدخل کیا گیا یا نہیں۔

ہوم آفس کے ترجمان نے کہا کہ ’احمد کے ہولناک جرائم گرومنگ گینگ کے سکینڈل کا مرکزی حصہ تھے، جو ہمارے ملک کی تاریخ کے تاریک ترین لمحات میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

’انتہائی کمزور افراد کا استحصال اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق مکمل سزا ملنی چاہیے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ احمد کو عمر بھر کے لیے جنسی مجرموں کے رجسٹر پر دستخط کرنا ہوں گے اور ان کی لائسنس شرائط کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں انھیں ’فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا‘۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US