میری بہن چیرلین کے ہمارے خاندان کے لیے بہت بڑے خواب تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم غربت سے نکل کر بہتر زندگی گزاریں۔ اب میری خواہش ہے کہ گریجویشن کے فوراً بعد مجھے کام مل جائے تاکہ میں گھر کا سہارا بن سکوں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم مکمل کرا سکوں۔
فلپائن کی یونیورسٹی آف اینٹیک کے تبیاؤ کیمپس میں گریجویشن کی تقریب ایک جذباتی منظر میں بدل گئی جہاں موت بھی طالبہ چیرلین کاہیلیگ کو اپنی ڈگری حاصل کرنے سے نہ روک سکی۔
چیرلین کاہیلیگ بیچلر آف سائنس اِن بزنس مینجمنٹ کی ڈگری مکمل کرنے والی تھیں مگر 29 مئی کو گھر واپسی کے دوران ایک ٹریفک حادثے میں ان کی جان چلی گئی۔ وہ کلاسی کے لیپاتا پورٹ سے اپنے آبائی علاقے بارانگائے باگاچائے جا رہی تھیں کہ حادثے کا شکار ہو گئیں۔
گریجویشن کے دن اساتذہ اور ساتھی طلبہ نے چیرلین کو تقریب کا حصہ بنانے کے لیے ان کا ایک اسٹینڈی تیار کیا۔ جلوس کے دوران ان کے والد سیزر نے وہ اسٹینڈی اپنے ہاتھوں میں اٹھائے رکھا جبکہ ڈگری بھی انہوں نے اپنی بیٹی کی جانب سے وصول کی۔ اس منظر نے تقریب میں موجود کئی افراد کو آبدیدہ کر دیا۔
چیرلین کے چھوٹے بھائی سیرینو بھی اسی یونیورسٹی میں انفارمیشن سسٹمز کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کی بہن ایک ساتھ یونیورسٹی جاتے تھے لیکن اب وہ بہن کے خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنی پڑھائی کے ساتھ خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عزم رکھتے ہیں۔
گھر میں سیرینو کے علاوہ دو کم عمر بہن بھائی بھی ہیں جو ہائی اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کے والد کھیتی باڑی کرتے ہیں جبکہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ چیرلین کی غیر موجودگی نے خاندان کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا، مگر ان کے خواب اب ان کے بھائی کے لیے زندگی کا مقصد بن گئے ہیں۔