سندھ کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد صوبائی وزراء مخدوم محبوب الزمان، محمد علی ملکانی اور سردار محمد بخش خان مہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب میں گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے، تاہم ذخیرہ اندوزوں نے کاشتکاروں سے زیادہ گندم خرید لی۔
آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرتے ہوئے گودام سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کی مدد لی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی صوبے میں ریٹیل مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کو ایک ماہ میں منصوبے کا تفصیلی جائزہ لینے کی مہلت دی گئی ہے۔ قومی گندم پالیسی 2026-2030 کے جائزے کے لیے سیکریٹری خوراک، زراعت اور قانون پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صوبائی کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
کابینہ اجلاس میں شوگر سیکٹر میں مشروط ڈی ریگولیشن اور مرحلہ وار تجارتی آزادی کی حمایت کی گئی ہے، تاہم صوبے میں نئی شوگر ملز کے قیام کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور شوگر سیکٹر کے ریگولیٹری اختیارات صوبے کے پاس رکھنے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے تاکہ کاشتکاروں، صارفین اور ماحولیات کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ محکمہ زراعت کو وفاق سے رابطہ کر کے اس فیصلے سے باضابطہ آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جامع تعلیم کے فروغ کے لیے ڈی ای پی ڈی اور آغا خان یونیورسٹی کے درمیان معاہدے کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت یونیورسٹی میں اسپیشل ایجوکیشن یونٹ قائم کیا جائے گا اور اساتذہ کی خصوصی تربیت، تحقیق اور ماڈل اسکولز کے لیے حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو فلائی اوور کے باقی ماندہ تعمیراتی کام کو مکمل کرنے کی ذمہ داری محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے سپرد کر دی گئی ہے۔ ساحلی پٹی پر نگرانی اور قانون پر عملدرآمد کے لیے "میرین کنزرویشن پالیسی" کا نام تبدیل کر کے "سندھ فشریز سروس" رکھنے اور نگرانی کے لیے 3 جدید اسپیڈ بوٹس کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی ہے۔