سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی تیز ترین ہنٹس مین مکڑی زیادہ تر انسانوں سے بھی زیادہ رفتار سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے لیبارٹری میں مکڑیوں کی 258 مختلف اقسام کا جائزہ لیا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ میں پائی جانے والی ہنٹس مین مکڑی تقریباً 3.6 میٹر فی سیکنڈ (تقریباً 8 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے جو ایک عام انسان کی اوسط رفتار سے زیادہ ہے۔
محققین کے مطابق طویل عرصے تک مراکشی فلک فلاک مکڑی کو دنیا کی تیز ترین مکڑی سمجھا جاتا تھا تاہم اس کی رفتار ایک خاص اندازِ حرکت اور قلابازیوں کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے اسی لیے نئی تحقیق میں اسے معیار نہیں بنایا گیا۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑی جسامت اور لمبی ٹانگوں والی مکڑیاں عموماً زیادہ تیز دوڑتی ہیں بشرطیکہ ان کا جسمانی وزن ان کی رفتار میں رکاوٹ نہ بنے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مکڑیوں کی جسمانی ساخت اور حرکت کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی تاہم مکڑیوں سے خوفزدہ افراد کے لیے یہ خبر یقیناً حیران کن اور پریشان کن ہو سکتی ہے۔