انڈونیشیا کے صوبے ریاؤ میں مسلسل دو ہفتوں سے تباہی مچانے اور 17 افراد کو زخمی کرنے والے جنگلی بندر کو بالاآخر ایک مشترکہ آپریشن کے بعد زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔
اس لمبی دم والے بالغ نر بندر نے گھروں کے باہر اور سڑکوں پر حملے کر کے بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد شہریوں کو زخمی کر دیا تھا، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور حکام کو ٹمبیلاہان قصبے میں تین روز کے لیے اسکول بند کر کے آن لائن کلاسز کی ہدایت جاری کرنا پڑی تھیں۔
بندر کی دہشت پر قابو پانے کے لیے پولیس، فوجی اہلکاروں، فائر فائٹرز اور وائلڈ لائف حکام نے مل کر ایک بڑا سرچ آپریشن کیا۔
مقامی پولیس سربراہ ڈونی ایکو لسٹینٹو کے مطابق ریاؤ نیچرل ریسورسز کنزرویشن ایجنسی کی جانب سے بچھائے گئے تین جالوں میں سے ایک کے ذریعے بندر کو کامیابی سے پکڑ لیا گیا، جس کے بعد علاقے میں معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔