کراچی میں رینجرز کیمپ آفس حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش حملے کی منصوبہ بندی اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ گرفتار ملزم کے مطابق افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کی قیادت نے حملے کی ہدایات جاری کیں اور تربیت بھی افغان سرزمین پر دی گئی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق قاری بشیر نے بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی نور ولی نے کی اور حساس معلومات بھارتی پراکسی عناصر تک پہنچائی گئیں۔ مزید یہ کہ دہشت گردوں کا گروہ بلوچستان کے راستے کراچی پہنچا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے رینجرز کیمپ آفس حملے کی مکمل منصوبہ بندی کا اعتراف کرلیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔