وفاقی دارالحکومت کے علاقے غوری ٹاؤن میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی مشترکہ کارروائی میں گھر کے اندر قائم غیرقانونی ادویات ساز فیکٹری پکڑلی گئی، جہاں بغیر لائسنس اور رجسٹریشن کے انسانوں اور جانوروں کے لیے ادویات تیار کی جا رہی تھیں۔
حکام کے مطابق مشترکہ چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں تیار شدہ انسانی اور ویٹرنری ادویات، خام مال، پیکنگ میٹریل اور پولٹری میں استعمال ہونے والی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد کرلی گئیں۔ کارروائی کے دوران فیکٹری میں موجود دو ملازمین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا تمام اسٹاک قبضے میں لے کر غیرقانونی فیکٹری کو سیل کردیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
حکام کے مطابق ضبط کی گئی بعض ادویات کی فی یونٹ قیمت 40 ہزار روپے تک بتائی جا رہی ہے، جس سے برآمد ہونے والے سامان کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے۔