این سی اے میں جدید بائیو مکینکس لیب کی تعمیر، پی سی بی کی برطانوی ماہرین سے مشاورت جاری

image

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لاہور میں واقع نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں جدید ترین بائیو مکینکس لیب کی تعمیر کے لیے غیر ملکی بائیو مکینسٹ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے این سی اے میں جگہ کا تعین کرلیا گیا ہے جبکہ پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز (بی او جی) نے پہلے ہی اس منصوبے کی باقاعدہ منظوری دے رکھی ہے۔

اس جدید لیب میں عالمی معیار کے کیمرے، سنسرز، فورس پلیٹس اور دیگر سائنسی آلات نصب کیے جائیں گے اور اس کی تعمیر رواں سال کے آخر تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔ لیب کی تعمیر کے لیے برطانوی یونیورسٹی 'لف برا' سمیت دیگر عالمی جامعات کے ماہرین سے مشاورت کی جا رہی ہے۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس پی سی بی عاقب جاوید نے نجی ٹی وی چینل 'سماء' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بائیو مکینکس لیب کی تعمیر سے بولرز کے ایکشن درست کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ بائیو مکینکس ٹیکنالوجی کھلاڑیوں کو انجری سے بچانے میں انتہائی معاون ثابت ہوتی ہے، جس کی مدد سے یہ پتا چل سکے گا کہ بولنگ کے وقت بولر کے کس مسل (پٹھے) پر کتنا بوجھ پڑ رہا ہے اور اس کا درست زاویہ (اینگل) کیا ہے۔

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں کوئی جدید ریسرچ سینٹر موجود نہیں ہے اور پی سی بی کا پرانا سسٹم اپنی معیاد مکمل کرچکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ برطانوی لف برا یونیورسٹی سے بات چیت جاری ہے جو اس منصوبے میں پی سی بی کی معاونت کرے گی۔ اس سسٹم کے تحت انڈر 15 سے لے کر سینئر ٹیم تک کے تمام کھلاڑیوں کے بولنگ ایکشنز کا معائنہ کیا جائے گا اور بورڈ کی کوشش ہے کہ رواں سال کے آخر تک یا زیادہ سے زیادہ 8 ماہ کے عرصے میں اس لیب کو مکمل کرلیا جائے۔

ذرائع کے مطابق، پی سی بی ماضی میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے کھلاڑیوں کے بائیو مکینکس ٹیسٹ کرواتا رہا ہے، تاہم آئی سی سی سے منظور شدہ لمز کی بائیو مکینکس لیب چار سال قبل ختم کردی گئی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US