ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے اسرائیل کے ساتھ روابط اور تعاون کے بارے میں نیویارک ٹائمز اور ہاریٹز میں تحقیقاتی رپورٹوں کی اشاعت کے ایک دن بعد ان کے دفتر کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سابق ایرانی صدر کے موساد کے ساتھ روابط اور ان کی نظر بندی کی تردید کی ہے۔
ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے اسرائیل کے ساتھ روابط اور تعاون کے بارے میں نیویارک ٹائمز اور ہاریٹز میں تحقیقاتی رپورٹوں کی اشاعت کے ایک دن بعد ان کے دفتر کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سابق ایرانی صدر کے موساد کے ساتھ روابط اور ان کی نظر بندی کی تردید کی ہے۔
محمود احمدی نژاد کے دفتر نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو ’مضحکہ خیز‘ اور ’ہالی وڈ کے دعوے‘ قرار دیتے ہوئے ان کی نئی تصاویر جاری کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ پہلے کی طرح اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے اسرائیلی حکومت کے محمود احمدی نژاد کے ساتھ مل کر ایران میں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے پر علیحدہ علیحدہ رپورٹس شائع کی تھیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، اسرائیل کی کثیر سالہ حکومت کی تبدیلی کا آپریشن ایران پر اسرائیلی امریکی حملے کے پہلے دن شروع ہوا۔ اس روز اسرائیل نے محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ان کے محافظوں اور ان کی بلٹ پروف گاڑی کو نقصان پہنچا۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں چار سینیئر ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا حملے کے چند منٹ بعد ایک کالی گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچی اور احمدی نژاد لے کر تیزی سے علاقے سے نکل گئی۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کار میں سوار افراد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ تھے جنھوں نے احمدی نژاد کو ایران کے اندر ایک خفیہ سیف ہاؤس میں پہنچایا۔
لیکن اس معاملے کی تفصیلات سے واقف لوگوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ احمدی نژاد ’جلد بازی اور افراتفری‘ میں کیے گئے اس آپریشن سے ناخوش تھے اور انھیں اقتدار میں بحال کرنے کے اسرائیلے منصوبے سے ’مایوس‘ دکھائی دیتے تھے۔
اس بارے میں تفصیلات ابھی تک واضح نہیں کہ احمدی نژاد اس جگہ سے کب اور کیسے نکلے۔ تاہم اس دن سے لے کر تہران میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کے دن تک سابق صدر عوام کے سامنے نہیں آئے تھے۔
نیویارک ٹائمز کی خبر میں کہا گیا ہے کہ فی الحال احمدی نژاد کی تازہ صورتحال حیثیت اب بھی واضح نہیں۔ تاہم ایران کے چار سینیئر عہدے داروں نے اخبار کو بتایا ہے کہ احمدی نژاد اس وقت پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس کی حراست میں ہیں اور ایران کو اسرائیل کے ساتھ ان کے رابطوں کے متعلق علم ہونے کے بعد انھیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے ایرانی حکومت کے خاتمے کے بعد احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کے مبینہ منصوبے سے متعلق اطلاعات پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تاہم محمود احمدی نژاد سے متعلق خبروں کا احاطہ کرنے والے خبر رساں ادارے دولتِ بہار نے آج صبح لکھا کہ احمدی نژاد نے اسمبلی کی اقتصادی کمیشن کے حالیہ اجلاس میں شرکت کی جو حالیہ معاشی صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا تھا۔
اس کے صرف دو گھنٹے بعد دولتِ بہار نے خبر دی کہ احمدی نژاد نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں ’موجودہ ملکی حالات‘ کے متعلق تبادلہ خیال ہوا۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس کا آغاز ’امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مارے گئے ڈاکٹر احمدی نژاد کے محافظوں کو یاد کر کے کیا گیا۔‘
موساد کے سربراہ اور احمدی نژاد کے مبینہ تعلقات کی کہانی
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’2024 میں بوداپیسٹ کی ایک یونیورسٹی کے صدر کو ہنگری حکومت کے ایک عہدیدار کی جانب سے ایک غیر معمولی درخواست موصول ہوئی۔‘
ہنگری کے اس وقت کے صدر وکٹر اوربان کی حکومت کے اس سینیئر عہدے دار کے اسرائیلی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ انھوں نے لڈوویکا یونیورسٹی آف پبلک سروس کے صدر گیرگیلی ڈیلی سے کہا کہ وہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیں۔
رپورٹ کے مطابق انھیں بتایا گیا کہ یہ کانفرنس دراصل اسرائیل اور اس کے دیرینہ دشمن کے درمیان خفیہ مذاکرات کے لیے ایک پردہ ہے۔
پروفیسر گیرگیلی ڈیلی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اگرچہ انھیں معلوم تھا کہ اس دعوت سے ان کی اور یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ شاید وہ انسانیت کو بچانے کی کوشش میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔
ایک سابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے 2024 میں اس وقت کے موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیع خود محمود احمدی نژاد سے ملاقات کے لیے ہنگری کے دارالحکومت گئے تھےنیویارک ٹائمز نے اس آپریشن سے واقف دو ایرانی اور امریکی عہدے داروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 2024 اور 2025 میں محمود احمدی نژاد کے بوداپیسٹ کے دو دورے درحقیقت اس اسرائیلی منصوبے کا حصہ تھے جس کا مقصد انھیں ایک ایسے سیاسی مہرے کے طور پر تیار کرنا تھا جو مناسب وقت آنے پر ایران کی قیادت سنبھال سکے۔
ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2024 میں اس وقت کے موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیع خود محمود احمدی نژاد سے ملاقات کے لیے ہنگری کے دارالحکومت گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اسی ملاقات کے فوراً بعد موساد نے سی آئی اے کو آگاہ کیا کہ اس نے محمود احمدی نژاد کے ساتھ رابطہ قائم کر لیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے بھی گذشتہ روز ایک رپورٹ شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمدی نژاد کے ساتھ رابطوں میں اضافے کے بعد ڈیوڈ برنیع نے خود اس آپریشن کی نگرانی سنبھال لی تھی۔ ہاریٹز کی رپورٹ نیویارک ٹائمز کی خبر سے کافی مشابہت رکھتی ہے۔
ہاریٹز کی روپرٹ میں متعدد اسرائیلی عہدیداروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔
اسرائیلی اخبار سے گفتگو کرنے والے امریکی ذرائع کا کہنا تھا کہ واشنگٹن محمود احمدی نژاد کے ساتھ ان رابطوں سے آگاہ تھا۔ ایک ذریعے کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ نے اس منصوبے پر موساد کے ساتھ تعاون بڑھانے کی منظوری دے دی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیوڈ برنیع سے کئی بار بات چیت کی تھی۔
ایک ذریعے کے بقول صدر تمام تر صورتِ حال سے ہمہ وقت آگاہ رہنا چاہتے تھے۔
بیرونِ ملک دورے اور ’انصار المہدی کور کے محافظوں کو چکما‘
محمود احمدی نژاد کے اسرائیل سے مبینہ تعلق کے بارے میں خبریں پہلی مرتبہ تقریباً دو ماہ قبل سامنے آئی تھیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں اور سابق ایرانی صدر کے درمیان رابطہ کب قائم ہوا تاہم اتںا ضرور ہے کہ جب 2023 میں احمدی نژاد ماحولیاتی مسائل سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گواٹے مالا گئے تو اس وقت بھی ان کا اسرائیلی اہلکاروں سے رابطہ تھا۔
احمدی نژاد کو اس دورے کی دعوت گواٹے مالا کی حکومت نے دی تھی۔
گواٹے مالا کا دیگر لاطینی امریکی ممالک کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ زیادہ قریبی سفارتی تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات محدود ہیں۔
ابتدائی طور پر ایرانی حکام کی مخالفت کے باعث یہ دورہ تقریباً منسوخ ہو گیا تھا۔ تاہم احمدی نژاد کی جانب سے کئی گھنٹوں تک ہوائی اڈے پر انتظار کے بعد انھیں روانگی کی اجازت دے دی گئی۔
تقریباً ایک سال بعد وہ پہلی بار ہنگری گئے جہاں انھوں نے یونیورسٹی آف لوڈوویکا میں ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس سے اپریل 2025 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی خطاب کیا اور انھیں پبلک سروس ایوارڈ دیا گیا۔
تاہم یہ احمدی نژاد کا آخری غیر ملکی دورہ نہیں تھا۔
اسرائیل کے ایران پر حملے اور بارہ روزہ جنگ کے آغاز سے چند روز قبل وہ دوبارہ ہنگری گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے اس دورے کا مقصد بھی اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں سے ملاقات تھا۔
نیویارک ٹائمز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمدی نژاد کی حفاظت پر مامور پاسدارانِ انقلاب کے حفاظتی یونٹ انصار المہدی سے تعلق رکھنے والے محافظوں نے اپنی رپورٹس میں کہا کہ ’اس دورے کے دوران وہ کم از کم دو مواقع پر اپنے محافظوں کو چکما دے کر غائب ہو گئے تھے۔‘
رپورٹ کے مطابق جب محافظوں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے پروفیسروں سے ملاقات کر رہے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدی نژاد نے اس کانفرنس میں روایت کے برخلاف اپنی تقریر انگریزی زبان میں کی جس میں انھوں نے ’مشترکہ انسانیت‘ اور ’عالمی نظام میں تبدیلی‘ کے موضوعات پر بات کی۔ ان کی تقریر میں قرآنی آیات کا حوالہ بھی نہیں تھا۔
نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق اسرائیل کی توجہ احمدی نژاد کی جانب اس وقت مبذول ہوئی جب انھوں نے اپنے صدارتی ادوار کے سخت گیر مؤقف سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کیا۔ انھوں نے اپنے مخصوص کریم اور سرمئی رنگ کی جیکٹس ترک کر دیں اور عوامی تقریبات میں وہ سوٹ پہنے نظر آنے لگے۔
وہ اس سے قبل پہلے ہی نسبتاً معتدل مؤقف اختیار کر چکے تھے، کئی انتخابات میں نااہل قرار دیے جا چکے تھے اور ایرانی حکومت سے مایوس ہو چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک موجودہ نظام برقرار رہے گا وہ دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکتے۔ رپورٹ کے مطابق یہی سوچ انھیں اقتدار حاصل کرنے کے دوسرے راستے تلاش کرنے کی جانب لے گئی۔
عبد الرضا داوری احمدی نژاد کے سابق قریبی ساتھی اور سینیئر مشیر تھے۔ تاہم بعد میں ان کے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ عبد الرضا داوری نے نیویارک ٹائمز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ’احمدی نژاد یہ سب پیسے کے لیے نہیں کر رہے۔ ان کے پاس پیسہ ہے۔ ان کا ایک وسیع معاشی نیٹ ورک ہے۔ وہ یہ اقتدار کے لیے کر رہے ہیں۔ وہ اقتدار کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچنا چاہتے ہیں۔‘
احمدی نژاد کے قریبی حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ اپنے چند انتہائی قریبی ساتھیوں اور معتمد افراد سے اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ بیرونی طاقتوں کی مدد سے ایران کے مستقبل کے رہبر بنیں گے۔‘
اس ذریعے نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ احمدی نژاد کو خدشہ تھا کہ اگر جنگ اور اس کے نتیجے میں حکومت تبدیلی کی صورت حال پیدا ہوئی تو امریکہ اور اسرائیل ایران سے باہر موجود اپوزیشن میں سے کسی شخص کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
ان کے بقول، احمدی نژاد سوویت یونین کے انہدام کے بعد اقتدار میں آنے والے سابق روسی صدر بورس یلسن جیسا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
آپریشن ’پُس اِن بوٹس‘
دائیں سے بائیں: ڈیوڈ برنیع، بنیامین نیتن یاہواسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق، محمود احمدی نژاد اسرائیل کے’پُس اِن بوٹس‘ نامی ایران میں نظام کی تبدیلی کے ایک مبینہ آپریشن کا صرف ایک حصہ تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے اندر دراندازی اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کارروائیاں، عراق میں کرد فورسز کو اسلحہ فراہم کرنے اور تربیت دینے کا پروگرام، حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دیگر اقلیتی گروہوں کو متحرک کرنا اور جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے لیے ایک زمینی راہداری قائم کرنا شامل تھا۔
رپورٹ میں ان دعوؤں کا تو ذکر ہے تاہم اب تک نہ تو ایرانی کرد جماعتوں اور نہ ہی ایرانی اقلیتوں سے وابستہ دیگر گروہوں نے ایسے اقدامات کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔
ہاریٹز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے مطابق اسرائیل کے اندر بھی اعلیٰ حکام اور ادارے نے اس منصوبے کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پر امید مہیں تھے۔
خبر کے مطابق فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بائنڈر کا تجزیہ تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ فوجی انٹیلی جنس کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ اوفیر مزراحی روزن نے بھی ایک جامع دستاویز تیار کی تھی جس میں اس آپریشن پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر تزاحی ہانگبی نے بھی اس منصوبے کو خیالی پلاؤ قرار دیتے ہوئے منصوبہ بندی کے عمل سے خود کو الگ کر لیا تھا۔
آخر میں اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کارروائی شروع ہونے سے تین روز قبل اسے روکنے کا حکم دیا، تاہم بنیامین نیتن یاہو نے آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ہاریٹز کے مطابق، ’نیتن یاہو اور ڈیوڈ برنیع نے جو خیالی پلاؤ تیار کیا تھا، وہ کردوں کی جانب سے ایک بھی گولی چلائے جانے سے پہلے ہی زمین بوس ہو گیا۔‘
اخبار کا کہنا ہے کہ اس تحقیقی رپورٹ کی تیاری کے لیے سیاسی قیادت، دفاعی اداروں، سفارتی حلقوں اور غیر ملکی حکام سمیت 30 سے زائد ذرائع سے گفتگو کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کا موسم گرما نیتن یاہو کی سوچ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ سات اکتوبر کے حملے کے صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایسی پیش رفت کے خواہاں تھے جو حماس کے ساتھ جاری تعطل کو پس منظر میں دھکیل دے۔ ہاریٹز کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے ساتھ ساتھ یہی عوامل ایران پر حملے کے فیصلے کی بنیاد بنے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیوڈ برنیع سے پہلے موساد کے سربراہان ایران میں حکومت کی تبدیلی کو اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیت سے باہر سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اصل ہدف ایرانی جوہری پروگرام تھا، حکومت کا تختہ الٹنا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ’دو سال قبل جب نیتن یاہو نے برنیع کو حکمت عملی تبدیل کرنے کا حکم دیا تو ابتدا میں ان کا مقصد حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے عدم استحکام کا شکار بنانا تھا۔ اس کے بعد موساد نے دراندازی کی کارروائیوں اور ایرانی عوامی رائے کو متاثر کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کیا۔‘
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موساد کی تجاویز میں ’ایران میں مختلف نسلی اور اقلیتی گروہوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا‘ اور ’جدید ٹیکنالوجی اور مقامی شراکت داروں کی مدد سے عوامی احتجاجی تحریکوں کو تقویت پہنچانا‘ شامل تھا۔
تاہم شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد نیتن یاہو احمد الشرع کی قیادت میں کام کرنے والے مسلح گروہوں کی کامیابیوں سے خاصے متاثر ہوئے۔
فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق احمد الشرع نیتن یاہو کے لیے ایک طرح کا ’ماڈل‘ بن گئے تھے۔ اس ذریعے نے کہا، ’نیتن یاہو موساد کے پاس گئے اور کہا کہ اگر ایران کی حکومت گرانا مقصود ہے تو زمین پر موجود مسلح قوتوں کی ضرورت ہو گی، ایسے جنگجو درکار ہوں گے جو اندرونی بدامنی پیدا کر سکیں۔‘
رپورٹ کے مطابق اسی سوچ نے ’کرد منصوبے‘ کو جنم دیا، جس کے تحت عراقی کردستان میں ملیشیاؤں کو مسلح اور تربیت دی جانی تھی اور مغربی ایران پر حملے کے لیے فضائی مدد فراہم کی جانی تھی۔
تاہم جب 12 روزہ جنگ شروع ہوئی تو توجہ دوبارہ خفیہ دراندازی کے بجائے براہ راست فوجی کارروائیوں کی طرف منتقل ہو گئی۔ منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے قیادت کے اہم افراد کے قتل اور فضائی بمباری کو مرکزِ نگاہ بنا لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 12 روزہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں نے نیتن یاہو کو عدم استحکام پیدا کرنے کی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کی طرف مائل کر دیا۔
رپورٹ مزید کہتی ہے کہ اسرائیل کی فضائی برتری نے نیتن یاہو کو یہ سوچنے پر آمادہ کیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور ساتھ ہی ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکان کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب اسرائیل کو یقین ہوا کہ امریکہ جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ ہے تو نیتن یاہو واشنگٹن ایک ایسے منصوبے کے ساتھ گئے جس میں حکومت کی تبدیلی بھی شامل تھی۔ ان کا مقصد امریکی قیادت کو یہ باور کرانا تھا کہ ایران پر حملہ صرف جوہری خطرے کے خاتمے تک محدود نہیں۔
تاہم ہاریٹز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے مشاورت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حکومت کی تبدیلی ’اسرائیل کا اپنا مسئلہ‘ ہے۔
اس منصوبے کے مخالف صرف امریکہ میں نہیں تھے بلکہ اسرائیل کے اندر بھی متعدد شخصیات اس کے خلاف تھیں، جن میں موساد کے ایران ڈیسک کے سربراہ بھی شامل تھے۔
ہاریٹز لکھتا ہے کہ سب سے زیادہ تشویش اس مرحلے پر تھی جس میں محمود احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کی بات کی گئی تھی۔ سینیئر فوجی انٹیلی جنس حکام کے مطابق مختصر مدت میں ایران میں حکومت کی تبدیلی بنیادی طور پر ناممکن تھی۔ ان کے خیال میں موساد کی کارروائیاں کامیاب نہیں ہو سکتیں اور نتائج حاصل کرنے کے لیے برسوں پر محیط مسلسل کوششیں درکار تھیں۔ ان کا سب سے بڑا شبہ اسی آخری مرحلے سے متعلق تھا۔
تاہم منفی انٹیلی جنس جائزوں کے باوجود نیتن یاہو کی رائے تبدیل نہیں ہوئی۔
سکیورٹی کابینہ کے ایک اجلاس میں شریک شخص کے مطابق جب ڈیوڈ برنیع نے منصوبے کا آخری مرحلہ پیش کیا اور وزرا کو بتایا گیا کہ اسرائیل محمود احمدی نژاد کو اقتدار میں لانا چاہتا ہے تو ’ان کے چہروں کے تاثرات فوراً بدل گئے۔‘
رپورٹ اگرچہ ایران میں داخلے کے کرد منصوبے کی ناکامی کی وضاحت کرتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کرتی کہ محمود احمدی نژاد نے وہ کردار کیوں ادا نہیں کیا جو مبینہ طور پر ان کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔
ایک سینیئر سیاسی ذریعے نے ہاریٹز کو بتایا کہ ’جس لمحے جنگ شروع ہوئی اور موساد کی جانب سے کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیا، اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ کہیں نہ کہیں مسئلہ ہے۔ تقریباً دس دن بعد سب کو یقین ہو گیا کہ یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہونے والا۔ پھر اچانک وہ لوگ بھی رابطہ منقطع کرنے لگے جن سے برنیع مسلسل رابطے میں تھے۔‘
ایک سکیورٹی عہدیدار کے مطابق، ’یہ موساد کے لیے ایک دھچکا ہے اور اس کی جڑ یہ سوچ ہے کہ محدود وسائل کے ساتھ کسی حکومت کا تختہ الٹا جا سکتا ہے۔‘
موساد کے سابق سربراہ تمیر پاردو نے ہاریٹز سے کہا، ’جب میں خصوصی کارروائیوں کے شعبے کا سربراہ تھا تو ہمیشہ کوئی نہ کوئی طویل المدتی تزویراتی آپریشن جاری رہتا تھا۔ ہم دو دو سال تک کام کرتے تھے تاکہ نتیجہ حاصل ہو سکے۔ اگر کوئی مجھے کہتا کہ ایران میں مطلوبہ صورت حال پیدا کرنے میں دس سال لگ سکتے ہیں تو میں اسے بالکل قابلِ قبول سمجھتا۔ لیکن آخرکار لوگوں کو ہتھیار اٹھا کر میدان میں آنا پڑتا ہے، اور شہریوں کو بھی خالی ہاتھ سڑکوں پر نکلنا ہوتا ہے۔‘
موساد کے سابق نائب سربراہ اور اسرائیلی پارلیمان کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کے رکن رام بن باراک نے بھی کہا، ’حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ چند مہینوں میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ میری رائے میں اس کے لیے کم از کم ایک دہائی درکار ہوتی۔ متبادل قیادت کی تلاش، لیڈر کا انتخاب، افراد کی بھرتی اور اسلحے کی فراہمی، یہ سب ایک بہت بڑا اور پیچیدہ کام ہے جس میں بے شمار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
اسرائیلی حکومت نے تاحال اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیع، جن کی پانچ سالہ مدت حال ہی میں ختم ہوئی، اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت بالآخر گر جائے گی۔ ان کے بقول یہ ایک سے تین سال کے اندر ہو سکتا ہے۔
تاہم انھوں نے ہاریٹز سے کہا کہ ’اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے پا گیا جس کے نتیجے میں منجمد اثاثے بحال ہو جائیں اور پابندیاں اٹھا لی جائیں تو موجودہ نظام کے برقرار رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہوں گے۔‘