ڈاکٹر آکاش کمار قتل کیس، پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا

image

کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک سے 50 لاکھ روپے جمع کروانے کے دوران قتل ہونے والے ڈاکٹر آکاش کمار کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے واردات میں ملوث تین ملزمان رام چند عرف امان، انیل مرچنڈ اور سریش عرف ساگر کو گرفتار کر لیا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 13 جولائی کو ڈاکٹر آکاش کمار بینک سے 50 لاکھ روپے لے کر جمع کروانے جا رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے بینک کے اندر ہی ان کی ریکی کی۔ ایک ملزم بینک کے اندر موجود رہا اور ڈاکٹر آکاش کمار کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا جبکہ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی اطلاع دی۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے بینک سے نکلنے کے بعد مسلسل ڈاکٹر آکاش کمار کا تعاقب کیا اور کلفٹن کے علاقے میں انہیں روک کر رقم چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران چلنے والی ایک گولی ڈاکٹر آکاش کمار کے ہاتھ سے گزر کر سینے میں جا لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گئے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا اور مختلف مقامات سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز، بینک کے کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے صرف 24 گھنٹوں میں ملزمان کی شناخت کر لی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات کارروائی کرتے ہوئے رام چند عرف امان، انیل مرچنڈ اور سریش عرف ساگر کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی دو موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اور کچھ نقد رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان عادی اور ریکارڈ یافتہ جرائم پیشہ ہیں، جو اس سے قبل بھی بینک سے رقم لے کر نکلنے والے شہریوں کی ریکی، ڈکیتی اور اس نوعیت کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ ملزمان پہلے بھی جیل جا چکے ہیں اور رہائی کے بعد دوبارہ اسی طرز کی وارداتوں میں سرگرم ہو گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس گروہ کے دیگر سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا جا سکے جبکہ بینکوں سے رقم لے کر نکلنے والے شہریوں کی ریکی کرنے والے منظم نیٹ ورک کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US