بھارت میں ایک 25 سالہ نوجوان، جو آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروس میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا، ٹرین حادثے کے بعد اپنے دونوں بازوؤں سے محروم ہو گیا، جس کے باعث اس کا روزگار بھی ختم ہو گیا۔ اب وہ مصنوعی بایونک بازو لگوانے کے لیے مالی مدد کا منتظر ہے تاکہ دوبارہ باعزت زندگی گزار سکے۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کے بعد نوجوان شدید زخمی حالت میں کافی دیر تک ریلوے ٹریک کے قریب پڑا رہا۔ اس دوران وہ لوگوں سے مدد کی اپیل کرتا رہا، لیکن مبینہ طور پر کئی افراد نے اس کی مدد کرنے کے بجائے صرف ویڈیوز بنائیں اور وہاں سے چلے گئے۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ حادثے نے صرف اس کے بازو ہی نہیں چھینے بلکہ اس کا روزگار بھی ختم کر دیا۔ اس کے مطابق وہ اب دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے بایونک بازو حاصل کرنا اس کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ کام کر سکے اور کسی پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
نوجوان نے بتایا کہ اس کی زندگی میں سب سے بڑی ہمت اس کے 55 سالہ والد ہیں، جن کی کچھ عرصہ قبل دل کی سرجری ہوئی تھی۔ اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی کفالت کے لیے بطور ڈیلیوری پارٹنر کام کر رہے ہیں۔
نوجوان نے کہا، "ہر صبح جب میں اپنے والد کو دل کی سرجری کے بعد بھی کام پر جاتے دیکھتا ہوں تو مجھے دوبارہ زندگی کے لیے لڑنے کا حوصلہ ملتا ہے۔"
اس نے مزید کہا، "میں بایونک بازوؤں کے لیے فنڈز جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ عزت کے ساتھ دوبارہ کام شروع کر سکوں اور اپنی کھوئی ہوئی خودمختاری واپس حاصل کر سکوں۔"
متاثرہ نوجوان نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ کسی بھی صورت اس کی مدد کر سکتے ہیں تو یہ اس کے لیے نئی زندگی کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہر چھوٹی یا بڑی مدد اسے دوبارہ باوقار انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بنا سکتی ہے۔