آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ بنیاد پر تعین کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ملک بھر کے پیٹرول پمپس بند کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر امیر خان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کا تعین اور ڈی ریگولیشن کی تجاویز ڈیلرز کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے مارکیٹ میں افراتفری پھیلے گی اور ڈیلرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی سازی میں ڈیلرز کے نمائندوں کو شامل کرے، بصورت دیگر ڈیلرز مجبوری میں اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
دوسری جانب آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین طارق حسن نے بھی حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 14 ہزار پیٹرولیم ڈیلرز اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا ہے جبکہ ڈیلرز کے تحفظات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
طارق حسن نے شکوہ کیا کہ وزیر پیٹرولیم ڈیلرز سے ملاقات بھی نہیں کرتے اور حکومت کے اس فیصلے کے بعد موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ دو سے تین روز میں ایسوسی ایشن اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
ادھر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے سیکریٹری جنرل ناظر عباس زیدی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کافی عرصے سے زیر غور ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی اس کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف ٹیکسز اور ڈیوٹیز تک محدود رہے اور قیمتوں کے تعین کے نظام سے باہر نکل جائے۔
ناظر عباس زیدی نے مزید کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں حکومت ممکنہ طور پر سات روز کی اوسط قیمت کی بنیاد پر یومیہ نرخ مقرر کرے گی، تاہم حتمی فارمولا سامنے آنے کے بعد ہی واضح تصویر سامنے آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیر کے روز اجلاس میں اپنا باضابطہ مؤقف پیش کریں گی۔