اقوامِ متحدہ کے عالمی فورم پر پاکستان کے فٹبال فار مینٹل ہیلتھ اقدام کو عالمی پذیرائی

image

پاکستان میں فٹبال فار مینٹل ہیلتھ اقدام پر ہونے والے کامیاب عملدرآمد کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی جب پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم ون ورلڈ، ون گیم، ون گول: نوجوانوں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے فٹبال بطور محرک میں اپنے تجربات دنیا کے سامنے پیش کیے۔

فٹبال فار مینٹل ہیلتھ اقوام متحدہ یوتھ آفس کا منصوبہ ہے۔اس فورم میں برازیل، انڈونیشیا، نائجیریا، انگلینڈ اور پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی اور اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ فٹبال کو نوجوانوں کی ذہنی صحت، سماجی شمولیت اور مثبت طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی نمائندگی پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے صدر سید محسن گیلانی نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے “فٹبال فار مینٹل ہیلتھ” اقدام پر پاکستان میں کس طرح عملدرآمد کیا گیا اور کھیل کو ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشرتی بہتری کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنایا گیا۔

اپنے خطاب میں سید محسن گیلانی نے کہا کہ ذہنی صحت کے لیے فٹبال کو ایک ذریعہ بنانے کے سفر نے ہمیں صرف متاثر نہیں کیا بلکہ بدل کر رکھ دیا۔ ہم 300 سے زائد نوجوانوں کو مینٹل ہیلتھ ایمبیسیڈر بنانے میں کامیاب ہوئے، پاکستان بھر میں ہزاروں بچوں تک ذہنی صحت کا پیغام پہنچایا، جبکہ اپنے موجودہ اور سابق 80 قومی کھلاڑیوں کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا۔ ہمارا یقین ہے کہ ایک فٹبال فیڈریشن ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری صرف اچھے کھلاڑی تیار کرنا نہیں بلکہ صحت مند اور ذمہ دار شہری بھی تیار کرنا ہے۔

پاکستان میں اس اقدام پر پاکستان فٹبال فیڈریشن نے اقوامِ متحدہ پاکستان اور اقوامِ متحدہ یوتھ آفس کے اشتراک سے عملدرآمد کیا، جس کے نتیجے میں 300 سے زائد نوجوان مینٹل ہیلتھ ایمبیسیڈر کے طور پر تربیت یافتہ ہوئے، ہزاروں بچوں تک ذہنی صحت سے متعلق آگاہی پہنچائی گئی اور قومی ٹیم کے موجودہ و سابق 80 کھلاڑی اس مہم کا حصہ بنے۔

سید محسن گیلانی نے کہا کہ اس اقدام کی سب سے بڑی کامیابی صرف حاصل ہونے والے نتائج نہیں بلکہ مستقبل میں مزید مشترکہ کام کے مواقع ہیں۔مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی نہیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا، بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم مل کر آئندہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ فٹبال حقیقی سماجی تبدیلی لا سکتا ہے۔

پاکستانی وفد میں پاکستان ویمنز نیشنل فٹسل ٹیم کی کھلاڑی سبل فواد طارق بھی شامل تھیں، جنہوں نے نوجوانوں میں ذہنی صحت کے فروغ کے لیے کھیل کے کردار کو اجاگر کیا۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے تقریب کے دوران نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں فٹبال اور دیگر کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے بھرپور تعاون کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ٹرائیونڈا، جو فیفا ورلڈ کپ کا آفیشل میچ بال ہے اور پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے، بھی پیش کیا، جو عالمی فٹبال میں پاکستان کے دیرینہ کردار کی علامت ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سید محسن گیلانی نے ذہنی صحت کے حوالے سے مستقل اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں مسلسل کام کرتے رہنا ہوگا۔ ہماری ذمہ داری صرف ایک مہم چلانا نہیں بلکہ مسلسل اس بات پر توجہ مرکوز رکھنا ہے کہ ہم مزید کیا کرسکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اس عالمی فورم میں پاکستان کی شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ ملک میں فٹبال فار مینٹل ہیلتھ اقدام پر ہونے والا مؤثر عملدرآمد عالمی سطح پر قابلِ توجہ قرار پایا ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر فٹبال کو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ نوجوانوں کی ذہنی صحت، سماجی ترقی اور مثبت تبدیلی کے مؤثر ذریعے کے طور پر فروغ دیتی رہے گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US