"مجھے صرف اس بات کا دکھ ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگ کسی بھی جھوٹی خبر پر فوراً یقین کر لیتے ہیں اور اسے آگے پھیلانے لگتے ہیں۔ ہمیں بھارت گئے ہوئے تین سال ہو چکے ہیں، لگتا ہے لوگ ہمیں وہاں بہت مس کر رہے ہیں، اسی لیے بلانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ الیکٹرانک، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کوئی بھی خبر نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کرے۔"
بھارتی سوشل میڈیا پر ان دنوں پاکستانی کرکٹر حسن علی سے متعلق ایک ویڈیو تیزی سے وائرل کی جا رہی ہے، جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حسن علی بھارت میں ٹرین میں جیب کتری کرتے ہوئے پکڑے گئے اور مسافروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنے۔ تاہم یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور نکلا۔
اس وائرل ویڈیو میں نظر آنے والا شخص نہ صرف حسن علی سے مشابہت نہیں رکھتا بلکہ اس کا کرکٹر سے کوئی تعلق بھی ثابت نہیں ہوا۔ اس کے باوجود متعدد بھارتی سوشل میڈیا پیجز نے ویڈیو کو حسن علی کے نام سے شیئر کرتے ہوئے گمراہ کن دعوے کیے۔
معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب حسن علی کی اہلیہ سامعہ خان نے خود اس پروپیگنڈے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اور حسن علی گزشتہ تین برس سے بھارت نہیں گئے، اس لیے ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ کسی بھی خبر کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر کئی پاکستانی صارفین نے بھی اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں موجود شخص حسن علی سے بالکل مشابہ نہیں، لیکن پھر بھی اسے ان کے نام سے وائرل کیا گیا۔ متعدد صارفین نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بغیر تصدیق ایسی خبریں شیئر کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔