پنجاب کے ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ سجاول عباس جسمانی معذوری اور چھوٹے قد کے باوجود تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے، تاہم معاشی مشکلات کے باعث اس کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سجاول نے حکومتِ پنجاب سے مالی معاونت فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
میانوالی کی تحصیل داؤدخیل سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ سجاول عباس نے ثابت کیا ہے کہ عزم اور محنت کے سامنے جسمانی معذوری رکاوٹ نہیں بنتی۔ سجاول نے بتایا کہ اس نے کبھی اپنے چھوٹے قد یا جسمانی معذوری کو اپنی تعلیم کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور مسلسل محنت کے ذریعے میٹرک میں 900 نمبر حاصل کیے، جس کے بعد ایف ایس سی بھی کامیابی سے مکمل کی۔
سجاول عباس کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتا ہے، مگر مالی وسائل کی کمی اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔
سجاول کے والد کے مطابق ان کے خاندان میں سجاول واحد فرد ہے جس نے تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھیڑ بکریاں چرا کر اہلِ خانہ کی کفالت کرتے ہیں، اس لیے بیٹے کی مزید تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا ان کی استطاعت سے باہر ہے۔
سجاول عباس نے حکومتِ پنجاب سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے نہ صرف اپنے والدین کا سہارا بن سکے گا بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کرے گا۔