پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے کے لیے چینی سرمایہ کار آگے آئیں، وفاقی وزیر بحری امور

image

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے میری ٹائم، بندرگاہوں اور لاجسٹکس شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ملک کو علاقائی ٹرانزٹ ٹریڈ، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

بیجنگ میں ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب انیشی ایٹو سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں رابطہ سازی، تجارتی سہولت کاری، لاجسٹکس، صنعتی ترقی اور پائیدار اقتصادی نمو کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں ڈیجیٹلائزیشن، اسمارٹ لاجسٹکس، مضبوط سپلائی چینز، گرین شپنگ اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ جیسے رجحانات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، جن سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے علاقائی تعاون اور جدید حکمت عملی ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک قدرتی گیٹ وے بناتا ہے۔ ان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ملک کو جدید میری ٹائم اور لاجسٹکس حب میں تبدیل کرنے کے وژن پر کام کر رہے ہیں۔

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب کے تصور کے تحت بندرگاہوں کی جدیدکاری، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز، لاجسٹکس پارکس، صنعتی انفراسٹرکچر، بحری خدمات اور ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فلیگ شپ منصوبے گوادر پورٹ میں بندرگاہی آپریشنز، لاجسٹکس، ویئر ہاؤسنگ، فری زون ڈویلپمنٹ اور بحری صنعتوں میں سرمایہ کاری کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں، اور حکومت سرمایہ کاروں کو شفاف، سازگار اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وفاقی وزیر نے تقریب کے انعقاد پر جیانگ ٹون لینڈ انٹرنیشنل ہولڈنگز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کے ذریعے اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کریں گے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کریں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US