پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ تعین کرنے کے حکومتی فیصلے پر پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جبکہ ڈیلرز کی دو بڑی تنظیمیں بھی ہڑتال کے معاملے پر مختلف مؤقف رکھتی ہیں۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے آج کراچی میں مرکزی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ ملک گیر ہڑتال کی جائے یا اوگرا کی جانب سے مانگی گئی سات روزہ مہلت قبول کی جائے۔
دوسری جانب پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن نے آج رات سے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے جس کے باعث پیٹرول کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی اور لاہور کے پیٹرولیم ڈیلرز کے نمائندوں سے متعدد ملاقاتیں کیں، تاہم حکومت انہیں یومیہ قیمتوں کے تعین کے فیصلے پر قائل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
اس دوران چیئرمین اوگرا اور سیکریٹری پیٹرولیم کے ساتھ بھی پیٹرولیم ڈیلرز کے بیک ٹو بیک اجلاس ہوئے، جبکہ پی پی ڈی اے کے وفد نے چیئرمین اوگرا سے ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات میں یومیہ قیمتوں کے نظام پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین طارق حسن کے مطابق اوگرا نے اس معاملے پر سات دن کی مہلت طلب کی ہے، جبکہ ڈیلرز نے اپنے منافع کا مارجن بڑھا کر 8 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی حکومت کے سامنے رکھا ہے۔
دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم او سی اے سی (OCAC) نے حکومت کے یومیہ قیمتوں کے تعین کے فیصلے کی حمایت کر دی ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے آج ہونے والے مرکزی اجلاس کے فیصلے پر ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی صورتحال اور ممکنہ ہڑتال کا انحصار ہوگا۔