پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کے مجوزہ یومیہ پیٹرول و ڈیزل قیمتوں کے تعین کے خلاف کل صبح 6 بجے سے ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائس چیئرمین پی پی ڈی اے طارق حسن نے کہا کہ مرکزی اجلاس میں مشاورت کے بعد ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومیہ قیمتوں کا تعین کسی صورت قابل قبول نہیں اسے ماہانہ بنیادوں پر کیا جائے۔
پی پی ڈی اے نے حکومت کے سامنے پانچ بڑے مطالبات بھی پیش کیے جن میں یومیہ پرائسنگ میکنزم ختم کر کے ماہانہ قیمتوں کا تعین، ڈیلر مارجن 8 فیصد کرنا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی کوٹہ پالیسی ختم کرنا اور پلاسٹک کارڈ کے ذریعے پیٹرول و ڈیزل فروخت کرنے پر بینکوں کی ٹرانزیکشن فیس ختم کرنا شامل ہیں۔
صدر پی پی ڈی اے سندھ امیر خان محسود نے کہا کہ کراچی سے لاہور اور دیگر شہروں تک پیٹرول پہنچنے میں کئی دن لگتے ہیں، اس دوران اگر قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو کاروبار چلانا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تیل کی کمی ہے تو حکومت کورونا لاک ڈاؤن کی طرح رات کے وقت پمپ بند کرا دے مگر یومیہ قیمتوں کا نظام قابل عمل نہیں۔
پی پی ڈی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔