پیٹرول پمپ مالکان کے بعد ملک بھر کی ٹرانسپورٹ تنظیموں نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کا عندیہ دے دیا ہے۔
ٹرانسپورٹ تنظیموں نے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے آج ٹرانسپورٹرز کا مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ممکنہ احتجاج اور ہڑتال کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس پہلے ہی ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کر چکا ہے۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے رہنما ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 70 پیسے اور آج مزید 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جبکہ ٹرانسپورٹ شعبے کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام کیا جا سکتا ہے۔ملک شہزاد اعوان نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔
دوسری جانب آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے بھی پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔صدر آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن ندیم حسین نے کہا کہ آج رات پیٹرول پمپوں کی بندش کے ساتھ ہی ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی فوری واپس لی جائے۔
پاکستان منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر شیر علی چوہدری نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آج رات 12 بجے سے مزدا گاڑیوں کا پہیہ بھی رک جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ٹرانسپورٹرز کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے اس لیے حکومت اپنا فیصلہ واپس لے۔