اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے سیڈز آف گروتھ رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں روئی کی پیداوار میں مسلسل کمی کے باعث معیشت کو ہر سال 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاٹن کی پیداوار اپنے عروج کے دور کی ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر مالی سال 26-2025 میں تقریباً 68 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں تک محدود رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں روئی کی درآمدات میں اضافہ اور برآمدی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
او آئی سی سی آئی کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، کیڑوں کے حملے، ناقص بیج، ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر اور غیر مستقل پالیسیوں نے زرعی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ بیجوں اور زرعی ادویات کی بروقت منظوری، جعلی بیجوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے زرعی قرضوں تک آسان رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ زرعی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہو۔