اہرامِ مصر کی تعمیر کا معمہ حل: قدیم تعمیراتی راز اور چھپے ہوئے دریا کا انکشاف

image

مصری ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور بین الاقوامی محققین نے اہرامِ مصر کی تعمیراتی تکنیک اور ان کی تعمیر کے لیے بھاری پتھروں کی نقل و حمل سے متعلق صدیوں پرانے معمے کے ممکنہ حل تلاش کر لیے ہیں۔

دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر واقع علاقے جبل الطیر میں 5 ہزار سال پرانے ایک 2 مقبروں والے قبرستان کی دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم مصریوں نے گیزہ کے عظیم ہرم کی تعمیر سے صدیوں قبل ہی جدید تعمیراتی تکنیکس میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ ان مقبروں کی دیواریں نیچے سے موٹی اور اوپر جا کر بتدریج تنگ ہوتی ہیں، جس سے عمارات کو استحکام ملتا تھا۔ یہی تکنیک بعد میں اہرام مصر کی تعمیر میں بھی استعمال کی گئی۔

ان مقبروں کا انداز مصر کے پہلے شاہی خاندان (3100 قبل مسیح) کے دور اور ابیدوس کے بادشاہوں کے مقبروں سے ملتا جلتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقبرے اہرام کی تعمیر سے قبل کی تجرباتی تکنیکس کے ارتقائی مراحل کو ظاہر کرتے ہیں۔ مصری وزیر سیاحت شریف فاتح کے مطابق اس دریافت سے مصر کی تعمیراتی تاریخ کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔

اس سے قبل، مئی 2024 میں سیٹلائٹ ریڈار ٹیکنالوجی اور زمین کے نمونوں کی مدد سے صحرا کے نیچے دبی دریائے نیل کی ایک 40 میل (تقریباً 64 کلومیٹر) لمبی قدیم شاخ دریافت ہوئی تھی، جو 4700 سے 3700 سال قبل 31 اہرام (بشمول گیزہ کا عظیم ہرم) کے قریب سے گزرتی تھی۔

محققین کے مطابق مصریوں نے اسی طاقتور آبی گزرگاہ کو 2.5 سے 15 ٹن وزنی پتھروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 4200 سال قبل شدید قحط سالی کی وجہ سے یہ دریا ریت میں دب گیا۔ دریا کے راستے میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ہی مصری حکمرانوں نے مختلف دوروں میں اہرام کے لیے الگ الگ مقامات کا انتخاب کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US