بولرز محض رفتار کے بجائے مہارت پر توجہ دیں، اندرونی سیاست نے کرکٹ کو تباہ کیا: سہیل خان

image

ورلڈ کپ کے ایک میچ میں بھارت کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستان کے سابق فاسٹ بولر سہیل خان نے قومی کرکٹ میں جاری بحران کی ذمہ داری موجودہ فاسٹ بولرز پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی مہارت اور حکمت عملی کو بہتر بنانے پر توجہ نہیں دے رہے۔

ہیڈنگلے، لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں فاسٹ بولرز سوئنگ اور سیم کے لیے سازگار پچ اور حالات کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے، جس کے بعد جمعے کے روز پاکستان کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑتا دکھائی دے رہا تھا۔

سہیل خان نے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ عالمی معیار کے فاسٹ بولرز پیدا کرنے کی شاندار روایت رکھنے والا پاکستان اس وقت بولرز کی اپنی مہارتوں کو نہ نکھار پانے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

سہیل خان نے کہا، ”ٹیسٹ کرکٹ میں ایک کامیاب فاسٹ بولر بننے کے لیے صرف رفتار ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ مسلسل وکٹیں حاصل کرنے کے لیے آپ کو کریز کا استعمال، زاویے، ریورس سوئنگ اور گڈ لینتھ سے لیٹ سوئنگ کرنے کے فن کا علم ہونا چاہیے۔“

سہیل خان نے 2015 کے ورلڈ کپ میں ایڈلیڈ کے مقام پر بھارت کے خلاف 55 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہ انگلینڈ کے دوروں کے دوران بھی دو بار اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں۔

ٹیسٹ میچوں سمیت 27 بین الاقوامی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سہیل خان نے کہا، ”آج کل رفتار کے بارے میں بہت باتیں ہوتی ہیں لیکن فاسٹ بولرز کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نتائج کیسے حاصل کیے جائیں۔ جسپریت بمراہ اس کی بہترین مثال ہیں۔ جس طرح وہ اپنی کلائی اور زاویوں کا استعمال کرتے ہیں، وہ انہیں ہر فارمیٹ میں ایک تباہ کن فاسٹ بولر بناتا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج کل پاکستان کرکٹ میں اس بات پر تو بہت زور دیا جاتا ہے کہ بولر کی رفتار کتنی ہے، لیکن نوجوان فاسٹ بولرز کے ساتھ ان کی مہارت اور حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی خصوصی (ون آن ون) سیشن نہیں منعقد کیے جا رہے۔

خان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی آمد نے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے خطیر رقم کی ضمانت تو دے دی ہے، لیکن اس کی وجہ سے ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کو نظر انداز کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ”اصل بات یہ ہے کہ جب تک آپ سرخ گیند سے کافی فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلیں گے، آپ کبھی بھی عالمی معیار کے بولر نہیں بن سکتے اور نہ ہی مختلف پچوں اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک فاسٹ بولر جتنا زیادہ کھیلے گا، اتنا ہی زیادہ فٹ رہے گا۔“

سہیل خان نے کہا کہ فاسٹ بولرز کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اور اس کی ایک مثال بھارتی کرکٹ ہے۔ ”ہمارے پاس کچھ اچھے باصلاحیت بولرز موجود ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ ایک مکمل فاسٹ بولر کیسے بننا ہے۔ شاہین شاہ آفریدی اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ اپنی کلائی کی پوزیشن (رسٹ پوزیشن) کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور فالو تھرو میں ان کا جسم ایک طرف گرتا ہے، اور ابھی تک کسی نے ان کے اس مسئلے کو درست نہیں کیا ہے۔“

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اندرونی سیاست اور ذاتی انا پرستی نے بھی پاکستان کرکٹ کی پیشرفت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا، ”ہماری کرکٹ میں پسند و ناپسند بہت زیادہ ہے۔ انا پرستی حد سے زیادہ ہے۔ میں نے عاقب جاوید، مصباح الحق اور اسد شفیق سے بات کی اور فاسٹ بولنگ کوچ کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں، لیکن بار بار یاد دہانی کے باوجود انہوں نے کوئی جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔“

خان نے بتایا کہ انہوں نے لیول 2 کا کوچنگ کورس مکمل کر رکھا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ نوجوان فاسٹ بولرز کو مکمل بولر بنانے کے لیے کوچنگ کی صلاحیتوں کو استعمال کریں۔ ”تجاویز اور مشورے دینے کی صلاحیت صرف اسی وقت آتی ہے جب آپ نے خود کافی ریڈ بال کرکٹ کھیلی ہو۔ ماضی میں ڈریسنگ روم کی ایک روایت تھی جہاں سینئر بولرز پاکستان ٹیم میں آنے والے نئے بولرز کو اپنے علم اور تجربے سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔“


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US