پاکستان کو جمعہ کے روز ہیڈنگلے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں تیسرے ہی دن اننگز اور 103 رنز سے شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز کی 238 رنز کی برتری کے جواب میں پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں محض 135 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جبکہ اس میچ میں قومی بلے باز مجموعی طور پر صرف 85.4 اوورز ہی کھیل سکے۔
میچ کے تیسرے دن انگلینڈ کی ٹیم اپنے گزشتہ روز کے اسکور 8 وکٹوں پر 366 رنز میں 43 رنز کا اضافہ کر کے 409 رنز پر آل آؤٹ ہوئی۔ جیمی اسمتھ کے 25 اور جوفرا آرچر کے ناقابلِ شکست 23 رنز نے انگلینڈ کو مضبوط برتری دلائی۔ پاکستان کی جانب سے اسپنر علی عثمان نے 95 رنز کے عوض 5 اور خرم شہزاد نے 133 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
238 رنز کے گھاٹے کے ساتھ دوسری اننگز کا آغاز کرنے والی پاکستانی ٹیم کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ جوفرا آرچر نے 13 کے مجموعی اسکور پر دونوں اوپنرز، اذان اویس (9) اور امام الحق (0) کو پویلین بھیج دیا۔ اس کے بعد لنچ سے قبل عبداللہ شفیق بھی 15 رنز بنا کر اولی روبنسن کا شکار بن گئے۔
لنچ کے بعد جوش ٹنگ نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے سعود شکیل (14)، شان مسعود (29) اور سلمان علی آغا (4) کو جلد آؤٹ کر کے پاکستان کا اسکور 76 رنز پر 6 وکٹیں کر دیا۔ محمد رضوان نے 39 گیندوں پر 41 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی اور وہ 9ویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بنے جنہیں گس اٹکنسن نے بولڈ کیا۔ دوسری اننگز میں انگلینڈ کے انگلش فاسٹ باؤلرز جوش ٹنگ، اولی روبنسن اور جوفرا آرچر تینوں نے بالترتیب تین تین وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔
تین مختلف کپتانوں کی زیرِ قیادت پاکستان کی اپنے گزشتہ 19 ٹیسٹ میچوں میں یہ 14 ویں شکست ہے۔ ان 19 میچوں میں سے 10 ٹیسٹ چار دنوں میں ختم ہوئے، جبکہ یہ چوتھا موقع ہے کہ قومی ٹیم کو تین دنوں کے اندر ہی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔