عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کرتے ہوئے اسے Caa1 سے اپ گریڈ کرکے B3 کردیا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق موڈیز نے پاکستان کے طویل مدتی غیرملکی قرضوں اور مقامی قرضوں کی ریٹنگ بھی B3 کردی جبکہ ملک کا معاشی آؤٹ لک مستحکم برقرار رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کو عالمی قرض مارکیٹ میں فائدہ مل سکتا ہے اور ملک بین الاقوامی مارکیٹ سے نسبتاً سستا قرض بہتر شرائط پر حاصل کرنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موڈیز کی جانب سے ریٹنگ اپ گریڈ کیے جانے سے دیگر عالمی ریٹنگ ایجنسیز بھی پاکستان کی معاشی صورتحال اور کریڈٹ ریٹنگ کا ازسرِنو جائزہ لے سکتی ہیں۔
اگست 2020 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ دوبارہ B3 کی ہے۔
کراچی سے جاری رپورٹس کے مطابق 2022 میں معاشی خدشات کے باعث پاکستان کی ریٹنگ منفی آؤٹ لک کا شکار ہوگئی تھی، جس کے بعد مسلسل تنزلی دیکھی گئی۔
حالیہ بہتری کو بیرونی مالیاتی دباؤ میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور معاشی اصلاحات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔