قومی ٹیم کی مسلسل ناکامی پر معین خان کی پی سی بی، سلیکٹرز اور کھلاڑیوں پر شدید تنقید

image

سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کو خدشہ ہے کہ اگر قومی ٹیم اسی طرح خراب کارکردگی دکھاتی رہی تو پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی اہمیت اور مقام کھو سکتا ہے۔

انہوں نے "ہماری ویب" کے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ہم تمام فارمیٹس خصوصاً ٹیسٹ میچز میں مشکلات کا شکار ہیں، اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مجھے ڈر ہے کہ لوگ پاکستان کرکٹ میں دلچسپی کھو دیں گے۔ ہم کرکٹ کی دنیا میں نچلے درجے کی ٹیموں میں شامل ہو سکتے ہیں اور ہمارے لیے ٹاپ ٹیموں کے ساتھ دو طرفہ سیریز حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔"

69 ٹیسٹ اور 219 ون ڈے میچز کھیلنے والے اس وکٹ کیپر بلے باز نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور اس کے سلیکٹرز کو ٹھہرانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

انہوں نے کہا: "میں کرکٹ کے نظام میں بورڈ کی جانب سے کی جانے والی مسلسل تبدیلیوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں، جن میں کپتانوں، کوچز اور کھلاڑیوں کا تعاقب و برطرفی اور سلیکٹرز کے ناقابلِ فہم فیصلے شامل ہیں۔ جب تک آپ کے پاس تسلسل، استحکام اور کپتان، کوچ یا کھلاڑیوں پر اعتماد نہیں ہوگا، آپ اچھے نتائج کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟"

معین خان نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ڈومیسٹک کرکٹ اور قومی ٹیم میں بار بار کی جانے والی تبدیلیوں نے پاکستان کرکٹ کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور کھلاڑی نظام پر سے اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔

معین خان—جنہیں میدان میں لڑنے والے اور بحرانی صورتحال میں کام آنے والے کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا تھا—نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پی سی بی بطور ادارہ فیصلے نہیں کرتا بلکہ ان افراد کی ذاتی خواہشات کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو اس وقت بورڈ میں اقتدار کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ "جب بھی کوئی چیئرمین اور مینجمنٹ ٹیم تبدیل ہوتی ہے، آپ کو ہمارے کرکٹ کے نظام میں ایسی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو ضروری نہیں کہ فائدہ مند ہوں۔ تو پھر استحکام کہاں ہے؟"

معین خان نے کھلاڑیوں کو بھی معاف نہیں کیا اور کچھ کھلاڑیوں کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "میں ماضی کا روپ نہیں دھونا چاہتا لیکن مجھے لگتا ہے کہ آج کل کے زیادہ تر کھلاڑی اپنی مہارت اور کرکٹنگ مزاج کو بہتر بنانے کے لیے کافی وقت نہیں دیتے League میں جاکر کتنا پیسہ کمایا جا سکتا ہے، اس پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے بجانب اس کے کہ ایک بہترین کرکٹر بننے کے ذاتی اہداف طے کیے جائیں۔"

معین خان نے کہا کہ جب ایک کھلاڑی کامیاب ہوتا ہے تو پیسہ خود بخود آتا ہے۔ "جب میں کھیلتا تھا تو ہم لاکھوں میں کماتے تھے۔ آج کل کے کھلاڑی کروڑوں میں کماتے ہیں، لیکن کھلاڑیوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے ملک کے لیے کامیابی کے ساتھ کھیلنے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔"

معین خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے اعظم خان (جو T20 انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں) کو بھی ہمیشہ یہی ہدایت کی کہ وہ لیگز کے بجائے پہلے ایک پاکستانی کھلاڑی بننے پر توجہ دیں۔ انہوں نے مزید کہا: "مجھے لگتا ہے کہ اب کھلاڑیوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ پی سی بی اور سلیکٹرز نے بھی 'پاکستان کیپ' کی قدر کم کر کے اس صورتحال میں کوئی مدد نہیں کی۔"

معین خان کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں پاکستان ٹیم میں جگہ بنانا اور وہاں برقرار رہنا بہت محنت، قربانی اور گھنٹوں کی تیاری کا تقاضا کرتا تھا۔ "لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ ہمیشہ بحرانی صورتحال میں رنز کیسے بنا لیتے تھے، تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ایک کھلاڑی کے طور پر میچز کے لیے کتنی اچھی تیاری کرتے ہیں۔"

معین خان نے پاکستان میں فاسٹ باؤلنگ کی موجودہ حالت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ "باؤلرز گھنٹوں محنت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ میں نے وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر اور دیگر عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلا ہے اور میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کسی بھی قسم کی پچ پر باؤلنگ میں مہارت اور تیز رفتاری صرف اسی وقت آتی ہے جب آپ نیٹس میں طویل گھنٹے لگاتے ہیں۔" انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام عظیم کھلاڑیوں نے اپنی مہارت اور فٹنس پر خود بہت سخت محنت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US