نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران ایک اسکول پرنسپل کی بروقت فیصلہ سازی نے ایک بڑے جانی نقصان کو روک دیا۔ نواکوٹ ضلع کی تریشولی وادی میں واقع تری بھون تریشولی سیکنڈری اسکول میں اس وقت 1643 بچے اور تدریسی عملہ موجود تھا جب خطرناک سیلابی ریلہ تیزی سے اسکول کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اسکول کے پرنسپل راجندر دواڑی بدھ کی صبح معمول کے مطابق ادارے میں موجود تھے کہ تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر انہیں ایک دوست کی ہنگامی فون کال موصول ہوئی۔ دوست نے بتایا کہ شدید سیلابی پانی پورے گاؤں کو متاثر کرچکا ہے اور اب اسکول کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی طور پر پرنسپل کو لگا کہ اسکول کی مضبوط تین منزلہ عمارت محفوظ رہے گی تاہم کچھ ہی دیر بعد ایک طالب علم کے والد نے پہنچ کر پانی کی تیزی سے بڑھتی سطح سے آگاہ کیا۔
صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے راجندر دواڑی نے مزید انتظار نہیں کیا۔ انہوں نے فوراً اسکول کی گھنٹی بجائی اور تمام اساتذہ کو کلاس رومز خالی کرانے کی ہدایت کردی۔ خوف زدہ بچوں کو عمارت سے نکال کر ایک بلند پہاڑی مقام کی طرف لے جایا گیا۔ ایک طالبہ کی طبیعت خراب ہونے پر اسے موٹر سائیکل کے ذریعے محفوظ مقام تک پہنچایا گیا۔
بچوں اور عملے کے محفوظ مقام پر پہنچنے کے چند ہی لمحوں بعد وہ منظر سامنے آیا جس نے پرنسپل کے فیصلے کی اہمیت واضح کردی۔ ایک طاقتور سیلابی ریلہ اسکول سمیت آس پاس کی متعدد عمارتوں کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ جس عمارت میں کچھ دیر پہلے 1600 سے زائد بچے موجود تھے، وہاں چند لمحوں بعد صرف تباہی کے آثار رہ گئے۔
اس واقعے میں 1643 بچوں اور اسکول کے عملے کی جانیں محفوظ رہیں، تاہم دو افراد بدقسمتی سے جانبر نہ ہوسکے۔ اسکول ٹیچر سنتوش پریار اپنے کرائے کے کمرے میں ناشتہ بنانے گئے تھے جبکہ اسکول کا چوکیدار سلطان لاما دروازہ بند کرنے کے لیے واپس آیا اور سیلابی ریلے کی زد میں آگیا۔
مقامی افراد پرنسپل راجندر دواڑی کی بروقت کارروائی کو بچوں کی جانیں بچانے کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر اسکول خالی کرانے میں چند منٹ کی بھی تاخیر ہوتی تو نقصان کہیں زیادہ ہوسکتا تھا۔
نیپال کے اس علاقے میں آنے والے حالیہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ماہرین کے مطابق برفانی تودے اور چٹانوں کے بڑے حصے کے دریا میں گرنے سے پانی، کیچڑ اور پتھروں کا شدید ریلا پیدا ہوا جس نے راستے میں آنے والی عمارتوں، پلوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔