پاکستانی نوجوان عبدل المعیز کا جسم مکمل طور پر مفلوج ہے، لیکن ان کے حوصلے اور عزم نے انہیں دوسروں سے منفرد بنا دیا ہے۔ صرف ایک انگلی کی مدد سے لیپ ٹاپ چلانے والے عبدل المعیز نہ صرف اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں بلکہ لاکھوں روپے کا آن لائن کاروبار بھی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔
35 سالہ عبدل المعیز نے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنی ایک انگلی کو کسی حد تک حرکت دے سکتے ہیں اور اسی انگلی کی مدد سے اپنا لیپ ٹاپ چلاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’’میں ایک انگلی سے ٹائپنگ کرتا ہوں اور لیپ ٹاپ پر دیگر کام بھی انجام دیتا ہوں۔ آن اسکرین کی بورڈ اور ماؤس کے ذریعے کمپیوٹر استعمال کرتا ہوں۔‘‘
عبدل المعیز کے مطابق ان کی زندگی میں ان کے والدین کا کردار سب سے اہم رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر والدین معذوری کا شکار بچوں کو معاشرے سے الگ یا محدود کر دیتے ہیں، لیکن میرے والدین نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور مجھ پر فخر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’میرے والدین نے زندگی میں بہت جدوجہد اور سخت محنت کی، انہی کی وجہ سے مجھ میں بھی ہمت اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔‘‘
عبدل المعیز نے بتایا کہ انہیں سات سال کی عمر میں بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ جسمانی مشکلات کے باوجود انہوں نے خود کو محدود نہیں کیا بلکہ اپنی دلچسپیوں اور کام کو جاری رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے گھومنے پھرنے کا شوق ہے، میں آفس بھی جاتا ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارتا ہوں۔‘‘
اپنے کاروبار کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدل المعیز نے بتایا کہ ان کا بنیادی کام انجینئرنگ سے متعلق ہے، جبکہ وہ فوڈ کا آن لائن کاروبار بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آج ان کے دفتر میں تقریباً 70 افراد کام کر رہے ہیں، جو اس بات کی مثال ہے کہ جسمانی مشکلات کسی شخص کے خوابوں اور صلاحیتوں کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں بنتیں۔
عبدل المعیز کی کہانی صرف ایک کامیاب کاروباری شخص کی داستان نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ اگر انسان کو خاندان کا تعاون، حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ حاصل ہو تو انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنی جگہ بنائی جا سکتی ہے۔